توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 386 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 386

توہین رسالت کی سزا 386 } قتل نہیں ہے موجودہ مزاج کو بدلنے کے لئے اور قوم کو قانونا بھی قتل وخون سے روکنے کے لئے حکومت وقت کو حسب ذیل قسم کے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ا : جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر از خود کسی کو توہین رسالت کا الزام دے کر قتل کرے اسے مقررہ سزادی جائے۔۲ ۴ جو کسی پر تو ہین کا جھوٹا الزام لگائے اسے مقررہ سزادی جائے۔جو جھوٹی روایات کی بنیاد پر تعلیم دے اس ادارے اور استاد پر پابندیاں لگائی جائے مدرسوں سے مرنے مارنے والی تعلیمات اور نصاب کو ختم کیا جائے۔جو خطیب مسجدوں یا جلسوں میں قتل وغارت والی زہر افشاں تقاریر کریں اور عوام الناس کو بھڑ کائیں ان پر سزائیں اور قدغنیں لگائی جائیں۔توہین رسالت کے ملکی قوانین میں مناسب ترامیم کی جائیں۔اسی طرح ہر اس قدم کو روکنا ہو گا جو گستاخی و توہین رسول کے نعرے کی آڑ میں فتنہ و فساد کی طرف اٹھ رہا ہو۔عالمی تدابیر ا: ہر ملک میں قانون کے محافظوں کو بیدار کیا جائے کہ وہ تمام بانیان و پیشوایان مذاہب کے ناموس کی حفاظت کے لئے موئثر اقدام کریں۔وہ ایسے قانون بنائیں کہ جن کے تحت ایسے لوگوں کو قابل تعزیز ٹھہرایا جا سکے جو دوسرے مذہب کے بانی یا پیشوا کی توہین کر کے ایک طرف ان کے پیروکاروں کے دل مجروح کرتے ہیں تو دوسری طرف ملک میں امن عامہ کو خطرے میں