توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 387
توہین رسالت کی سزا 387 | قتل نہیں ہے ڈالتے ہیں۔ملک میں فساد بھڑ کانے کے لئے یہ ایک بنیادی وجہ ہے۔جسے دور کرنا حکومت وقت کا کام ہے۔یہاں یہ یاد رہے کہ یہ تعزیز توہین رسالت کی نہیں بلکہ فساد فی الارض اور امن عامہ برباد کرنے کی ہوگی۔الغرض ارباب اقتدار کو بار بار اس طرف توجہ دلائی جائے کہ امن عامہ کے قیام اور ملک میں بسنے والی مختلف قوموں کے درمیان باہمی بھائی چارے کی فضا کے قیام کے لئے یہ از حد ضروری ہے کہ بانیانِ مذاہب کے تقدس کو قائم کیا جائے اور ان کے خلاف کسی کو بد زبانی کی اجازت نہ دی جائے۔ہر مسلمان اپنے اپنے ملک میں ارباب حکومت کو بھی اس بیہودہ گوئی سے باز رہنے اور روکنے کی طرف توجہ دلائے، اور آنحضرت صلی اللہ یلم کی سیرت کے خوبصورت پہلوؤں ۲ سے آگاہ کرے۔: اسی نہج پر مسلمان ممالک اقوامِ متحدہ میں اس مسئلہ کو پیش کر کے اس کا حل نکالیں۔بانیان مذاہب کے خلاف دل آزار اور گندی زبان استعمال کرنے کی روک تھام کا قانون بنوائیں۔دنیا کے ایک بڑے خطے پر مسلمان حکومتیں قائم ہیں۔مسلمان ممالک یو این او (UNO) کا حصہ بھی ہیں، وہ قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کو دنیا پر ظاہر کرنے کی کوشش کریں، یہ واضح کریں کہ دنیا میں رائج دیگر جرائم کی نسبت کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اور انبیاء کی بے حرمتی کر نازیادہ بڑا جرم ہے۔دنیا کے امن کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کو بھی یو این او کے امن چارٹر کا حصہ بنایا جائے۔جس کے ذریعے یہ امر یقینی بنایا جائے کہ کوئی ممبر ملک اپنے کسی شہری کو اجازت نہیں دے گا کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیلے۔: تمام ممالک کے مسلمان فیصلہ کریں کہ اپنے ملک میں حتی الامکان ووٹ ان سیاستدانوں کو دیں گے جو مذہبی رواداری کا اظہار کریں۔اس کا نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ ان دنیاوی