توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 369
توہین رسالت کی سزا 369 | قتل نہیں ہے ہدایت نہیں دیتا۔ان کی عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں شکوک پیدا کرتی رہے گی۔سوائے اس کے کہ ان کے دل (اللہ کی خشیت سے) ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔اور اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ ہم اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے جب مدینے سے کچھ فاصلے پر ایک مقام ذی آوان پہنچے تو آپ نے مالک بن الد خشم ، معن بن عدی، عامر بن السکن اور وحشی رضی اللہ عنہم اور ایک اور شخص کو بھیجا اور فرمایا: ”اس مسجد کے بنانے والے بڑے ظالم ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے اس کو جلا کر راکھ کر دو۔“ وہ پانچوں اس حکم کی تعمیل میں نکلے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں اسے جلا کر زمیں بوس کر دیا۔یہ اڈہ جو مسجد کے نام پر دشمنوں کی کمین گاہ بنایا گیا تھا، مستقل طور پر کالعدم ہو گیا۔یہ نام نہاد مسجد چونکہ مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لئے بنائی گئی تھی اس لئے اسلامی کتب میں یہ مسجد ضرار کے نام سے مشہور ہو گئی۔(ابن ہشام امر مسجد الفرار۔۔۔۔تاریخ الخمیس، هدم مسجد الضرار والسيرة الحلبيه ، غزوہ تبوک ) یہاں بھی رسول اللہ صلی للی کم کی رحمت و بخشش کی ادا ملاحظہ فرمائیں کہ تخریب کاری اور فساد کے اڈے کو ختم کر دیا مگر ان لوگوں میں سے کسی کو قتل نہیں کرایا۔حالانکہ ان کے اقدام انتہائی مفسدانہ اور اسلام کے لئے خطر ناک تھے۔وہ آپ کو ہر طرح کا نقصان پہنچانے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔اُن کے اِن جرموں کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی آچکی تھی۔وہ لوگ آپ کو نقصان پہنچانے اور آپ کے خلاف سازشیں تیار کرتے ہوئے کوئی عزت و احترام سے آپ کا ذکر تو نہیں کرتے تھے۔یقینا وہ آپ کے نام اور آپ کے ذکر کے ساتھ توہین و تنقیص خیز کلمات استعمال کرتے تھے۔آپ کی قائم کردہ مسجد کے مقابل پر بلکہ مخالفت میں مسجد کی تعمیر ہی