توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 345
توہین رسالت کی سزا { 345 ) قتل نہیں ہے ایک تو آپ نے مکے کی طرف اپنے خروج کو خفیہ رکھا۔تاکہ کوئی مزاحمت نہ ہو کہ اس کی وجہ سے خونریزی ہو جائے۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ ان لوگوں کو قتل کرنا نہیں چاہتے تھے جنہوں نے آپ کی ہر نوع کی توہین و تنقیص ہی نہیں کی تھی بلکہ وہ آپ کے جان کے پیاسے بھی تھے۔آپ ان کی بھی حفاظت کرنا چاہتے تھے اور ان میں سے اسلام کے لئے خدمات سر انجام دینے والے لوگ حاصل کرنا چاہتے تھے۔آپ معفو و در گزر کا وہ معیار اور رحمت و کرم کی وہ مثال قائم کرنا چاہتے تھے جو قوموں کو زندگی عطا کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے ان لوگوں کو انتہائی حکمت عملی کے ساتھ مدافعت سے باز رکھ کر محفوظ فرمایا۔دوسرے یہ کہ آپ نے جذباتی نعروں کی کلیه پیش بندی فرما دی تاکہ فاتحین کے دلوں میں گزشتہ مظالم کے بدلے لینے کے لئے کسی قسم کی انگیخت پیدا نہ ہو۔چنانچہ ایک موقع ایسا پیدا ہوا کہ جب فاتحین کا جلوس سے کی گلیوں سے گزر رہا تھا تو انصار کے علم بردار حضرت سعد بن عبادہ نے جوش میں آکر نعرہ بلند کیا : الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ - اَلْيَوْمَ تُسْتَحَلُ الْحُرْمَةُ الْيَوْمَ اذَلَ الله قریش کہ آج قتل عام کا دن ہے اور آج کعبے کی حرمت بھی حلال ہو جائے گی۔آج اللہ تعالیٰ قریش کے لئے ذلت کے سامان فرمائے گا۔جب یہ خبر آپ تک پہنچی تو آپ ناراض ہوئے۔کیونکہ اس قسم کے نعرے اشتعال پیدا کر سکتے تھے اور خون ریزی کا باعث بن سکتے تھے۔اس لئے آپ نے انہیں نا پسند فرمایا۔آپ نے ابوسفیان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”سعد نے غلط کہا ہے۔آج تو رحم کا دن ہے۔وَهُذَا يَوْمٌ يُعَلِّمُ اللهُ فِيْهِ الكَعْبَةَ وَيَوْمُ تُكْسَى فِيْهِ الْكَعْبَةُ - كم آج اللہ تعالیٰ کعبے کو عظمت عطا فرمائے گا اور آج کعبے کو غلاف پہنایا جائے گا اور قریش کے لئے عزبات کے سامان ہوں گے۔“ پھر آپ نے حضرت سعد بن عبادہ سے انصار کا جھنڈا لے کر ان کے بیٹے حضرت قیس بن سعد کے سپر د کر دیا۔تا کہ سعد کو ایک طرح سے سرزنش بھی ہو جائے اور