توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 346
توہین رسالت کی سزا 346 } قتل نہیں ہے ان کا دل بھی میلا نہ ہو کیونکہ بیٹے کے سپر د جھنڈا ہونے کے یہی معنے ہیں کہ گویا سر داری کا یہ جھنڈا انہی کے گھر میں رہا۔بہر حال حضرت سعد سے جھنڈا منتقل کرنے سے باقی سب کو واضح طور پر یہ پیغام مل گیا کہ رسول اللہ صلی الی یکم کو اس موقع پر کسی قسم کی انگیخت پسند نہیں ہو گی۔( بخاری کتاب المغازی غزوہ فتح مکه این رکز النبيا الراية وابن ہشام غزوة فتح مكة ، تعرض بعض المشركين لنفر من الصحابة و زرقانی شرح المواہب اللہ نبیہ ، غزوة فتح مكتة ) یہاں بھی رسول اللہ صلی ا لی ایم کے رؤوف و رحیم دل اور پر رحمت جذبات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک طرف لگے والوں کے خون کی حفاظت فرمائی اور دوسری طرف ان کے مفتوح ہو کر شکست خوردہ جذبات بھی مجروح ہونے سے بچالئے۔تیسرے آپ کی یہ تاکیدی ہدایت تھی کہ صرف مزاحمت کرنے والوں کا مقابلہ کیا جاۓ۔چنانچہ اس مہم میں سوائے معمولی سی ایک جھڑپ کے اور کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔آپ کی اس حکمت عملی کی وجہ سے ملنے کی فتح بغیر خونریزی کے انتہائی پر امن طریق پر ہوئی۔اس کے نتیجے میں اہل مکہ سب کے سب محفوظ و مصئون ہو گئے۔چوتھے یہ کہ آپ نے مکے والوں کے خون اور ان کے جذبات کی اس طرح بھی حفاظت فرمائی کہ آپ نے اعلان کروایا کہ جو شخص مسجد حرام میں پناہ لے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔جو شخص ابو سفیان کے گھر جا کر پناہ لے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔جو اپنے گھر میں دروازے بند کر کے بیٹھ رہے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔اس اعلان سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں جوش نہ بڑھے اور وہ امن کی خاطر پر سکون رہیں۔یہ آپ کے ان اقدامات میں سے چند اقدام کا ذکر ہے جو آپ نے قوم کو ایک بڑی خونریزی سے بچانے کے لئے فرمائے۔