توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 316 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 316

توہین رسالت کی سزا { 316 ) قتل نہیں ہے کرتے تھے۔اپنی جو تیوں کی مرمت کر لیتے تھے۔کپڑوں کو خود پیوند لگا لیتے تھے۔بکری دوہ لیتے تھے۔خادم کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے تھے۔اگر وہ آٹا پیتے کبھی تھک جاتا تو آپ اس کی مدد کرتے تھے۔بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لے آتے تھے۔ہر امیر غریب سے مصافحہ کرتے تھے۔سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔اگر کوئی معمولی کھجوروں کی دعوت بھی دیتا تو آپ اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول فرماتے تھے۔آپ نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔آپ کا رہن سہن بڑا صاف ستھرا تھا۔ہر ایک سے بشاشت اور مہربانی کے ساتھ پیش آتے تھے۔ایک دل آویز تبسم کی جھلک ہر وقت آپ کے چہرے پر رہتی تھی۔آپ خدا تعالیٰ کے خوف اور اس کی بے نیازی سے فکر مند رہتے تھے۔آپ کے اندر ترش روئی اور خشک طبعی کا نام و نشان نہ تھا۔منکسر المزاج تھے لیکن اس میں کسی کمزوری یا پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔آپؐ بے مثال سخی تھے مگر اسراف نہیں کرتے تھے اور بے جا خرچ سے ہمیشہ بچتے تھے۔آپ نرم دل اور رحیم و کریم تھے۔آپ کے کھانے میں بھی میانہ روی تھی یعنی اتنا نہ کھاتے کہ ڈکار لیتے رہیں۔کبھی حرص و طمع کی وجہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے بلکہ آپ صبر وشکر اور قناعت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔(الشفا الباب الثانی فصل فی تواضعها) آپ میں تکبر کا شائبہ تک نہ تھا۔”آپ نہ کسی بات پر ناک چڑہاتے تھے اور نہ اس میں کوئی عار سمجھتے تھے کہ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں اور ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں۔(مسند الدار می باب فی تواضع رسول اللہ صلی ال) آپ کے یہ مذکورہ بالا تمام اوصاف قطعی ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ آپ سخت دل اور جابر انسان نہیں تھے کہ کسی کی بد زبانی پر انگیخت ہو کر اسے زیر تعزیر لے آتے۔آپ کی فطرت ہی