توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 221
توہین رسالت کی سزا 221 H قتل نہیں ہے تو ان اجور کا بھی حقدار نہیں ہونا چاہئے تھا۔پس ایسی اہل کتاب عورتیں جن کے خاوند مسلمان ہوں اور وہ فوت ہو جائیں تو ان میں سے ایک کی وفات پر دوسرا الاز ما مقررہ حصے کا وارث ٹھہر تا ہے۔اسے اس سے محروم کرنے کی کوئی تعلیم قرآن کریم میں نہیں۔اسی طرح مقتول کی دیت کے بارے میں قرآنِ کریم سوائے محارب کفار کے مسلم اور غیر مسلم ورثاء میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔چنانچہ فرمایا: "وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأَ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوْا، فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُةٍ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ طَ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ ، بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ (النساء: 93) ترجمہ : اور جو کوئی غلطی سے کسی مومن کو قتل کرے تو ایک مومن غلام کا آزاد کرنا ہے اور طے شدہ دیت اس کے اہل کو ادا کرنا ہو گی سوائے اس کے کہ وہ معاف کر دیں۔اور اگر وہ ( مقتول) تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو اور وہ مومن ہو تب بھی ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے۔اور اگر وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد و پیمان ہوں تو اس کے اہل کو طے شدہ دییت دینا لازم ہے اور ایک مومن غلام کا آزاد کرنا بھی۔اس آیت سے واضح ہے کہ اگر مقتول کسی دشمن قوم سے ہو لیکن مومن ہو تو پھر قاتل کے لئے ایک مومن غلام آزاد کر نالازم ہے ، اس پر دیت لازم نہیں کیونکہ دیت اس کے ورثاء کو ملے گی اور وہ چونکہ غیر مسلم ہیں، دشمن اور محارب ہیں اور مسلمانوں سے پر سر پر کار ہیں اس لئے انہیں دیت کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔جبکہ مقتول کے غیر مسلم ورثاء اگر محارب نہ ہوں تو انہیں مسلمان ورثاء کی طرح دیت کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔