توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 220
توہین رسالت کی سزا 220 } قتل نہیں ہے جہانتک خونی رشتوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اسلام نے ان کا غیر معمولی تحفظ فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: "وَإِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمُلَا فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (حمن : 16 ) کہ اگر وہ (تیرے ماں باپ) دونوں تجھ سے جھگڑا کریں کہ تو میر اشریک ٹھہر جس کا تجھے علم نہیں تو ان دونوں کی اطاعت نہ کر اور ان دونوں کے ساتھ دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھ۔یہ آیت بھی صاف بتاتی ہے کہ اگر ماں باپ مشرک ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کو دین کے اختلاف کی وجہ سے ان حقوق سے محروم نہیں کرتا جو ماں باپ کے اولاد پر ہوتے ہیں۔ان حقوق میں سے بہت بڑا حق وراثت کا ہے جو ماں باپ کا اولاد پر اور اولاد کا ماں باپ پر ہوتا ہے۔پس اس آیت میں یہ تعلیم بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ ماں باپ کو ہر گز کسی بھی انسانی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا خواہ دین کا اختلاف کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔یہ ایک عظیم الشان تعلیم ہے جس کی نظیر لانے سے دوسرے مذاہب قاصر ہیں۔اسی طرح ایک اور آیت میں بھی یہی اصل پیش کیا گیا ہے۔فرمایا: "وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ 66 الْمُؤْمِنتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا اتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ “ (المائدہ:6) اور پاکباز مومن عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاکباز عور تیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہیں جب تم انہیں نکاح میں لاتے ہوئے ان کے حق مہر ادا کر دو۔یعنی ان عورتوں کو جو اہل کتاب میں سے ہیں اور مسلمانوں کی بیویاں ہیں، ایک طرف تو ان کو ان کے اجور ادا کرنے کی تو تلقین ہو۔یعنی ان کی زندگی میں تو ان کے حقوق اتنی سختی سے قائم کئے گئے ہوں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ساتھ ہی ان کے وارث نہ بننے کی بھی بات ہو رہی ہو۔اگر وہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ورثہ نہیں پائیں گی تو اجور دینے کا جواز ہی نہیں رہتا۔انہیں