توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 222
توہین رسالت کی سزا 222} قتل نہیں ہے پس ان آیات کریمہ کی روشنی میں زیر بحث حدیث نبوی کے معنے بھی متعین ہو جاتے ہیں اور انہی معنوں میں یہ حدیث بھی قابل قبول قرار پاتی ہے۔قرآنِ کریم نے انسانی حقوق و معاملات کی جو کھلی اور واضح تعلیم دی ہے اس کے دائرے میں ان کو دیکھا جائے تو حقیقت افروز مفہوم یہ بنے گا کہ جہاں غیر تم سے یہ سلوک کریں وہاں تمہیں بھی حق ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ وہی جو ابی سلوک کرو اور یہ نہ سمجھو کہ قرآن تمہیں پابند کر رہا ہے کہ تم ایسی صورت میں بھی ان کو ورثہ دو جب اولاً وہ تمہیں اس سے محروم کر رہے ہوں۔اس سے ایک اور زاویہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر غیر مسلم وارث کو محض مذہب کی بناء پر محروم الارث قرار دیا جائے تو وہ وراثت کی محرومی کے خوف سے اور مال کے حصول کے لالچ میں مسلمان ہو جائے گا۔یعنی وہ ایمان کی بنیاد پر نہیں مالی مفادات کی بناء پر بظاہر مسلمان ہو جائے گا لیکن اندر سے کافر ہی رہے گا۔پس ایسی تعلیم اسلام قبول کرنے والے کو نعوذ باللہ عملاً منافق بنانے والی ثابت ہو گی۔الغرض مذکورہ بالا بحث سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آنحضرت صلی ال کلم کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ وراثت چونکہ بنی نوع انسان کا ایک بنیادی حق ہے اس لئے جو کسی کو اس بنیادی حق سے محروم کرے گا وہ خود بھی اس سے محروم ہو گا۔یہ ایک توازن والا اور دوطرفہ انصاف کا قانون ہے۔اس کے سوا کسی کو ورثہ سے محروم کرنے کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ورنہ یہ حدیث قرآن کریم کے دائمی قانون سے متصادم ٹھہرے گی جبکہ اصولی بات یہ ہے کہ حدیث کسی طرح بھی قرآن کریم سے نہیں ٹکراسکتی۔جب حدیث میں واضح طور پر احکام ملتے ہوں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کو بھی قبول کریں اور کوئی ایسی صورت نکالیں جس سے ظاہری تضاد اور تصادم دور ہو۔لیکن یہ گستاخی ہو گی کہ کہا جائے کہ ہم قرآن کو قبول کریں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں