توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 214 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 214

توہین رسالت کی سزا { 214} قتل نہیں ہے اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ مثلاً حالت جنگ میں دشمن اگر زیادتی کرتا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ گو دشمن نے زیادتی کر کے عہد یا قانون توڑا ہے مگر ہم اپنے عہد کی وجہ سے اس پر زیادتی کرنے کے مجاز نہیں۔بلکہ جتنی دشمن نے زیادتی کی ہے، خدا تعالیٰ نے علی سوآء کے قانون کے تابع مومنوں کو اتنی برابر کی کارروائی کی اجازت دی ہے۔روز مرہ کی زندگی میں اسی نوع کی اور مثالیں بھی ہیں۔مثلاً قرآنِ کریم میں ہے: " لا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ“ (النساء: 149) کہ اللہ تعالیٰ بڑی بات کے کھلم کھلا اور بلند بانگ اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔یعنی اونچی آواز میں بُری بات ہو ، سخت گوئی ہو ، بد کلامی ہو ، جھگڑے کی بات ہو اللہ تعالیٰ اسے ہر گز پسند نہیں فرماتا۔إِلَّا مَنْ ظُلِمَ “ سوائے اس کے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو۔یعنی اگر کوئی کسی کے خلاف بد گوئی اور بد تمیزی کر رہا ہے تو اس کو اس کے جواب کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ہاں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ اس طریق کو پسند نہیں کرتا، وہ خو د رُک جائے تو اس کو ثواب ہو گا، یہ ایک مستحب بات ہو گی۔مگر ہر مظلوم کا یہ حق قائم فرما دیا کہ جتنا اس پر ظلم ہوا ہے اس کا وہ اتنا بدلہ لے سکے۔پس یہ وہ وقتی صورت اور ضرورت ہے جو ان احکام میں صاف نظر آتی ہے۔جہاں مسلمان کو غیر مسلم کے ورثے سے اور غیر مسلم کو مسلمان کے ورثے سے محروم قرار دیا گیا ہے۔وہ وقتی صورت اور ضرورت مبینہ طور پر محاربت یعنی ایک دوسرے سے لڑائی کی حالت تھی اور مسلمانوں کو یہ حکم اُس وقت اِس لئے تھا کہ اُن سے غیر مسلم یہی سلوک روارکھتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم نے جب فتح مکہ کے وقت صحابہ کے استفسار پر یہ جو فرمایا: "هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلِ“ کہ عقیل نے میرے لئے کون سا گھر چھوڑا ہے کہ جس میں میں قیام کر سکوں۔یعنی آپ کے چچا ابو طالب کے بیٹے عقیل نے آپ کی ساری موروثی جائیداد پر قبضہ کر کے