توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 213 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 213

توہین رسالت کی سزا { 213 } قتل نہیں ہے کہ کہیں یہ حکم ایسا تو نہیں ہے جو مخصوص ہے اور بعض حالات کے تناظر میں مشروط ہے یا کسی جنگی پس منظر سے متعلق ہے اور محدود ہے۔کیونکہ قرآنِ کریم بسا اوقات بعض خاص حالات کے لئے روز مرہ کے عام احکامات سے ہٹ کر مگر واضح طور پر اجازت دیتا ہے۔اجازت کی ایسی صورتوں کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی ہے کہ اگر دشمن ایک کام کرتا ہے تو تمہیں بھی اس دشمن سے اس حد تک ویسا متبادل سلوک کرنے کی اجازت ہے۔مثلاد شمن اگر بیت الحرام کی بے حرمتی کرتے ہوئے وہاں لڑتا ہے تو تمہیں بھی صرف اسی حد تک اس جگہ لڑنے کی اجازت ہے۔اگر دشمن عہد شکنی کر کے تمہیں نقصان پہنچاتا ہے تو تمہیں بھی صرف اسی حد تک اجازت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةٌ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَاسِنِينَ (الانفال: 59) ترجمہ: اور اگر کسی قوم سے تو خیانت کا خوف کرے تو اُن سے ویسا ہی کر جیسا انہوں نے کیا ہو۔اللہ خیانت کرنے والوں کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔اس آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ اگر تم دشمن سے کوئی معاہدہ کرتے ہو اور اس کی وجہ سے خود کو مامون و محفوظ سمجھتے ہو اور اس کی طرف سے کسی حملہ کی توقع نہیں رکھتے۔جبکہ وہ اس صور تحال سے فائدہ اٹھا کر معاہدہ شکنی کرتے ہوئے تم پر حملہ کرتا ہے اور تمہیں نقصان پہنچاتا ہے تو اس کی خیانت اور معاہدہ شکنی کے بدلے میں تمہیں بھی عَلی سَوَاء کے اصول کے مطابق اس سے معاہدہ ختم کرنے کی اجازت ہے۔ایسی صور تحال میں معاہدہ ختم کرنے کے لئے تمہارا اُسی قدر اور برابر کا عمل جائز ہو گا۔پس فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَوَاءٍ کا مطلب یہ ہے کہ بعض جگہ دشمن کا فیصلہ ہوتا ہے جو تمہارے عمل کے لئے بنیاد اور دلیل بنتا ہے۔اس منظر میں آنحضرت صلی تعلیم کے اس مذکورہ بالا فرمان میں ایک واضح حکمت اور ایک منصفانہ توازن صاف دکھائی دیتا ہے۔