توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 181
توہین رسالت کی سزا 181 } قتل نہیں ہے صلی ایم کی وہ خواہش پوری ہو جاتی کہ ” لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد (صلی ) اپنے ساتھیوں کو مرواتا ہے۔مگر ایسی کتابوں نے یہ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ اپنے ساتھیوں کو مرواتے تھے اور بار بار مرواتے تھے۔چنانچہ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلا کہ آج اسلام کی اور رسول اللہ صلی للی نیم کی مسلسل تو ہین کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ بھی ثابت کیا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ کی تلوار لوگوں کو ظالمانہ طور پر کاٹتی رہی ہے اور اسلام کی تعلیم متشددانہ ہے۔اگر محسن انسانیت صلی الم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس سچائی کو ثابت اور پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی کہ آپ نہ صرف یہ کہ اپنوں کے خون اور ان کی زندگیوں کو بچاتے تھے بلکہ ظلم کرنے والوں کو بھی بقا عطا کرتے ہوئے معافی پر معافی عطا کرتے چلے جاتے تھے۔تو ثابت یہ ہوتا کہ نسل انسانی میں صرف اور صرف ایک آپ ہی ہیں جو انسان، انسانیت اور انسانی خون کے سب سے بڑے محافظ تھے۔پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ آج دنیا کی قومیں اس عظیم ، عفو و در گزر اور رحمت کے بحر بیکراں سے فیضیاب ہورہی ہو تیں۔ایسی متشد د کتابوں نے نہ صرف دوسری قوموں کے لئے اسلام کی کشش کو سلب کر لیا ہے بلکہ مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کے دلوں میں قساوت ، سینوں میں رعونت اور نظروں میں ایسی خشونت بھر دی ہے کہ دیگر مذاہب کے پیروکار اُن سے بدکتے ہیں۔کاش وضعی، ضعیف اور کمزور روایتوں کو کتابوں میں جگہ نہ دی جاتی۔صحیح روایات کو غلط معنے نہ پہنائے جاتے۔آیات قرآنیہ کی تفسیریں کمزور روایت کے تابع نہ کی جاتیں بلکہ ان جھوٹی اور جعلی روایات کو کلیۂ رڈ کر دیا جاتا۔اگر ایسا ہو تا تولازماً ہر عہد میں ہی رسول اللہ صلی علیم کی پر رحمت و پر نور شخصیت اپنی پورے حسن و جمال اور خوبی و کمال سے چمک کر دنیا کے سامنے آتی۔اسلام کا سچا، سچا اور حسین چہرہ ہر دور میں ہر