توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 180
توہین رسالت کی سزا 180 } قتل نہیں ہے روایات تراشی ہیں اور انہیں کئی لوگوں کی طرف منسوب کر کے کوئی سند بھی مہیا کر دی ہے مگر وہ ہدایت کے ان حقیقی سرچشموں سے مخالف اور متصادم ہیں۔اس لئے ائمہ فن نے واقدی کو جھوٹا، روایات تراشنے والا اور سارق یعنی چور قرار دیا ہے۔دوسری بنیادی اور فاش غلطی اس کتاب میں یہ ہے کہ اس میں واقدی کے ساتھ ساتھ دیگر وضاعوں مثلاً مصنف عبد الرزاق اور عکرمہ مولیٰ ابن عباس کی روایات بھی بنیادی حیثیت میں شامل ہیں جو اس کتاب کی بنیادوں کو مبینہ طور پر کھو کھلا ، استدلالات کو غلط اور اجتہادات کو بو دا کر رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج معماراگر عمارت میں بنیاد کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھتا ہے تو دیوار چاہے ثریا تک بلند کر دی جائے، وہ لاز ما ٹیڑھی ہی ہو گی۔کتاب ' الصارم۔۔۔۔۔۔اس شعر میں بیان شدہ حقیقت کی عملی اور جیتی جاگتی تصویر ہے۔ہم روایات وضع کرنے والے ان مذکورہ بالا تینوں افراد کا ذکر گزشتہ باب میں تفصیل سے کر آئے ہیں۔ظلم یہ ہے بعض آیات قرآنیہ اور روایات صحیحہ کو بھی ان وضعی روایات کے تحت کر کے زیر بحث لایا گیا ہے۔حالانکہ رُخ یہ ہونا چاہئے تھا کہ روایات اور ان پر کئے جانے والے اجتہادات کو قرآن کریم اور سنت و حدیث رسول کے مستند ریکارڈ کے سامنے پیش کر کے ہر روایت کی ایسی توجیہہ کی جاتی جو رسول اللہ صلی علیم کی پاک سیرت ، آپ کے عفو و در گزر ، آپ کی وسعت قلبی ، وسعت ظرفی اور کائنات سے وسیع تر دامن رحمت پر داغ نہ لگنے دیتی و الّا اس روایت پر آیت قرانیہ یا سیرت و سنت رسول کو حکم بناکر اسے ترک کر دیا جاتا۔اگر ایسا کیا جاتا تو اس سے ایک طرف تو مسائل کا رُخ بالکل درست اور صحیح رہتا اور دوسری طرف رسول اللہ