توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 151 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 151

توہین رسالت کی سزا 151 } قتل نہیں ہے نَاقَةٌ مُقَتَلَةٌ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جو مالک کے اشارے پر چلتی ہو۔ان چند مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے معنے عربی میں صرف جان سے مارنے اور موت کے گھاٹ اتارنے کے نہیں ہیں بلکہ یہ لفظ اپنی صرفی ترکیب ، صور تحال اور تناظر کے لحاظ سے اپنے مجازی اور محاوراتی معنے بھی اپناتا ہے۔اسے اکثر مجازی معنوں میں بھی لیا جاتا ہے۔اس لئے فَاقْتُلُوہ سے ہر جگہ جان سے مار دینا آیات قرآنیہ، سنتِ رسول صلی الی یکم اور عربی محاورہ کے خلاف ہے۔پس جب قرآن کریم، احادیث نبویہ، لغت و محاورہ عرب میں قتل کے دیگر معانی موجود ہوں تو ایسی صورت میں اگر کوئی ایسی یقینی حدیث بھی جس میں ”اقتلُوہ کا لفظ استعمال ہوا ہو تو اس میں اس لفظ کا یہ ترجمہ کرنا کہ اس کو موت کے گھاٹ اتار دو، جائز نہیں ہو گا۔کیونکہ وہ قرآن کریم کی صریح آیات اور سنت و اسوہ کر سول صلی اللہ نیلم کے منافی ہو گا۔جیسا کہ باب دوم میں متعدد بار ثابت کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت مصلی الم نے آپ کی کھلی کھلی توہین کرنے والوں کو کبھی بھی قتل نہیں کیا ، نہ گردن مارنے کا حکم دیا اور نہ ہی کسی صحابی کے غیرت کے تحت اجازت طلب کرنے پر اسے اس کی اجازت دی۔بلکہ آپ تو ایسے بد زبانوں کے لئے ہدایت کی دعا کرتے تھے۔پس ان حقائق کی بنیاد پر اس زیر بحث روایت کو جہاں قبول نہیں کیا جا سکتا، وہاں اس میں لفظ " فَاقْتُلُوهُ" کے معنے جان سے مار دینا بھی کسی طور پر اختیار نہیں کئے جاسکتے۔اس فقرے کے واضح اور موزوں معنے یہی بنتے ہیں کہ جو بھی کسی نبی کے بارے میں ناز یبا یا اس کی شان کے منافی کلام کرے اس کو اس سے رو کو اور اس کی اس بد تمیزی کو کالعدم سمجھو۔کیونکہ اس کی فضول حرکت سے نبیوں کی شان میں ایک تنکا برابر فرق بھی نہیں پڑتا۔