توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 152 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 152

توہین رسالت کی سزا 152 قتل نہیں ہے پس یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ زیر بحث روایت میں ' فَاقْتُلُوهُ سے جان سے مارنا یا گردن مار نا یا عرف عام کے مطابق قتل کر دینا مراد نہیں ہے۔روایت کے الفاظ میں تبدل یہاں یہ بھی قابل ذکر اور قابل فکر بات ہے کہ كتاب المعجم الصغیر جس میں سب سے پہلے یہ روایت نمودار ہوئی وہاں۔” مَنْ سَبِّ الأَنْبِيَاءَ“ کے۔الفاظ ہیں۔چنانچہ لکھا ہے: مَنْ سَبَ الأَنْبِيَاءَ قُتِلَ وَمَنْ سَبَ أَصْحَابِي جُلِدَ۔“ یعنی اس پہلی روایت میں سب انبیاء کا ذکر ہے۔اس سے صاف طور پر ثابت ہے کہ اگر بفرض محال اس وضعی روایت کو ایک لمحہ کے لئے مان بھی لیا جائے تو اس میں صرف رسول اللہ صلی الی یم کی بات نہیں ، بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام مذکور ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ بعد میں یہ روایت کس طرح بدل گئی اور الانبیاء کی بجائے نبیا کا لفظ اختیار کر لیا گیا۔الغرض جو بھی ہو اوہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ اس روایت کو بنایا گیا ہے اور بعد میں اس کے مضمون پر کسی کو تسلی نہ ہوئی تو اس کے الفاظ کو بھی بدل دیا گیا۔جبکہ راوی دونوں میں حضرت علی اور حضرت حسین ہی ہیں۔دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ المعجم الصغیر والی روایت میں الفاظ قتل' سے مراد جان سے مار دینا نہیں بلکہ ایمانی لحاظ سے ایسا ہو جانا مراد ہے کہ گویا وہ اپنا ایمان ختم کر چکا ہے ، وہ اپنے ایمان کو مار چکا ہے یا کالعدم ہو چکا ہے۔اسی طرح ' جلد سے مراد ہے کہ جو صحابی کو گالی دے وہ گویا ایمانی لحاظ سے از خود پٹ چکا ہے۔کیونکہ نبیوں کو ہر گالی دینے والا پکڑا جا سکتا ہے نہ پکڑا گیا ہے۔تو اس کے لئے یہ روایت کالعدم اور بے معنے ہو جاتی ہے۔کیونکہ قتل میں ایک حتمیت پائی جاتی ہے کہ وہ لاز ما قتل ہو گیا۔وہ قتل ہو چکا ہے۔اسی طرح تاریخ شاہد ہے کہ کسی صحابی یا صحابیہ کو کوڑے مارے گئے نہ پیٹا گیا تو اس ثابت شدہ واقعاتی حقیقت کی وجہ سے اس کے