توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 150 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 150

توہین رسالت کی سزا } 150 قتل نہیں ہے اسی طرح کہتے ہیں : ” قَتَلَ الله فلانا اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اللہ اس کے شر سے بچائے۔چنانچہ رسول اللہ صلی علی یلم کے وصال کے فوراًبعد سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کی مجلس میں خلافت کے بارے میں جو ماحول قائم ہوا اس منظر میں حضرت عمرؓ نے کہا: ” قَتَلَ الله سغدًا“ کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سعد بن معاذ) کے شر سے بچائے۔دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ” اقْتُلُوا سَعْدًا قَتَلَهُ الله “ (الطبری - جزء الثالث مطبوعہ دارالمعارف مصر، واقعات سنۃ 11 ذكر البر۔۔۔۔سقیفہ بنی ساعدة) مراد یہ تھی کہ اسے مقتول سمجھو کہ گویا یہ زندہ ہی نہیں۔اس کی بات نہ مانو ، اسے یوں سمجھو کہ وہ گویا قتل ہی ہو گیا، وہ گویا کالعدم ہو گیا ہے، بے حیثیت ہو گیا ہے۔حضرت عمر نے جب فرمایا ” اقتلوہ تو کسی نے اس سے موت کے گھاٹ اتار نامراد نہیں لیا۔لغت و محاورہ عرب میں سے حسب ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔جو لغت عرب میں سے ' تاج العروس ، لسان العرب اور ' المعجم الوسیط “ وغیرہ سے ماخوذ ہیں۔چنانچہ لکھا ہے: قَتَلَ الشَّيئَ خَبْرًا وَعِلْمًا۔اس نے کسی بات کو علم کے لحاظ سے قتل کر دیا یعنی اس چیز کے بارے میں مکمل علم حاصل کیا۔پھر یہ بھی کہتے ہیں۔قِيْلَ لِلْخَيْرِ مَقْتُولَةٌ: شراب کو مقتولہ کہا جاتا ہے ، جب اس میں پانی ملا کر اس کی تیزی ختم کر دی گئی ہو۔قتل فُلانا کہا جائے تو مراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے دوسرے کو ذلیل ورسوا کر دیا۔تَقَبَّلَ الرَّجُلُ لِلمَرْأَة کا مطلب ہے کہ مرد عورت کا مطیع ہو گیا۔