توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 117
توہین رسالت کی سزا { 117 } قتل نہیں ہے 13 حضرت زبیر کا ایک شخص کو قتل کرنا اس روایت کے الفاظ ہیں: "إِنَّ النَّبِيِّ علب و اللهم سَبَّهُ رَجُلٌ، فَقَالَ مَنْ يَكْفِيْنِي عليه عَدُوّى فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، فَبَارَزَهُ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ - مصنف عبد الرزاق کتاب الجہاد باب من ذقی وجھہ النبي " حديث 9649 و الشفاء صفحہ 222 و شرح الشفاء القسم الرابع فی بیان ماھو فی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحہ 406) ک رسول اللہ صلی اللہ کل کو ایک شخص نے گالی دی۔تو آپ نے فرمایا کہ میرے لئے میرے اس دشمن کو کون نپٹے گا۔اس پر زبیر نے کہا: میں۔چنانچہ زبیر نے اسے مقابلہ کے لئے للکارا اور قتل کر دیا۔به مصنف عبد الرزاق صاحب ہیں جو حدیثیں گھڑ گھڑ کے پیش کئے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی علی یم کو کسی نے گالی دی۔آپ نے فرمایا: ” مَنْ يَكْفِينِي عَدُوّی کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے ؟ ٹکسالی کا یہ فقرہ تو ہر جگہ چلایا جارہا ہے۔ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور اس گالی دینے والے کو قتل کر دیتا ہے۔چنانچہ یہاں اس روایت میں حضرت زبیر کو آگے لائے ہیں کہ انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔جہانتک اس زیر بحث روایت کے مندرجات ،ماحول اور منظر کا تعلق ہے تو حضرت زبیر والا یہ واقعہ غزوہ احزاب کا معلوم ہوتا ہے جب عین لڑائی کے دوران کفار کے لشکر میں سے نوفل بن عبد اللہ آنحضرت صلی اللی علم کے قتل کے لئے آگے بڑھا تو حضرت زبیر بن العوام نے آگے بڑھ کر اسے ڈھیر کر دیا۔( زرقانی شرح المواہب اللدنیہ: غزوہ احزاب ) یعنی یہ دورانِ جنگ مبارزت کا منظر ہے نہ کہ سب و شتم کا۔