توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 116
***** توہین رسالت کی سزا { 116 } قتل نہیں ہے اگر ان میں سے مؤخر الذکر روایت کو درست گمان کیا جائے تو دیگر روایات جو آگ میں جلانے کا ذکر کرتی ہیں وہ تمام اس سے متصادم ہونے کی وجہ سے خود بخو د ر ڈ ہو جاتی ہیں۔یہ حقیقت بہر حال ثابت شدہ ہے کہ آگ میں نہ جلانے والی مؤخر الذکر روایت قرآن کریم اور سنت رسول سے پوری طرح موافق ہونے کی وجہ سے درست قرار پاتی ہے۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ ﷺ کا فرمان "مَنْ كَذَبَ عَلَى مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔صحیحین میں تقریباً دس مرتبہ مذکور ہے۔ان میں کسی جگہ بھی یہ وو قول رسول اس جھوٹ بولنے والے شخص کے واقعے کے ساتھ درج نہیں ہے۔مگر کتاب ” وو الصارم۔۔۔۔۔“ میں لکھا ہے کہ " فَعِنْدَ ذلِكَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ کہ " اس موقع پر آپ نے یہ فرمایا۔پس یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے کہ رسول اللہ صلی ال نیلم کی اس وعید کو پیش کر کے اسی کے تحت یہ روایت وضع کی گئی ہے اور آپ کی طرف ایک جھوٹا واقعہ منسوب کیا گیا ہے۔ونعوذ باللہ من ذلک