تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 792
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم دنی فتح نہیں ہوا کرتی ٹھوس باتوں سے دنیا فتح ہوا کرتی ہے۔پس اپنی نیکیوں کو یا اپنے نیک تصورات کو نیک اعمال کی صورت میں ڈھالیں۔اپنے خلاؤں کا جائزہ لیتے رہیں۔انہیں بھرنے کی کوشش کریں اور اس کے نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کی اولاد بھی ماحول سے خطرہ محسوس کرنے کی بجائے ماحول پر غالب آنے لگے گی۔یہ تو ایک عمومی بات ہے۔سوال یہ ہے خلا بھر نے کیسے ہیں؟ قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو یہ بات صاف نظر آجاتی ہے کہ ہر وقت انسان کو اپنا نگران رہنا پڑتا ہے، ہر وقت متلاشی رہنا پڑتا ہے۔اور حقیقت میں تقویٰ کا مضمون اس چیز سے بڑا گہرا تعلق رکھتا ہے۔تقویٰ کا ایک معنی ہے، خوف کا۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔خوف کس بات کا؟ اللہ سے تو خوف نہیں کھایا جاتا۔ان معنوں میں اللہ وہ ڈرنے والی چیز تو نہیں۔وہ تو پیارا وجود ہے، اسے تو اپنایا جاتا ہے۔ہر وقت اس کی باتیں ہوتی ہیں۔جس کا خوف ہو انسان ہر وقت اس کا ذکر تو نہیں کرتا رہتا۔اس لئے جب آپ تقوی کے مضمون کو سمجھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو نیکیاں پیدا کرنے کا مضمون بھی خود بخود سمجھ آ جائے گا۔جس چیز سے آدمی ڈرے بھوت ہے یا بچے بھوتوں سے ڈرتے ہیں یا چڑیلوں کے نام سے خوف کھاتے ہیں۔جتنا آپ ان کا ذکر کریں گے، اتنا ہی ان کی چینیں نکلیں گی ڈر کے مارے کہ یہ کیا کر رہے ہو۔اس لئے کبھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بھوتوں اور چڑیلوں سے خوف کھاؤ اور ہر وقت بھوتوں اور چڑیلوں کا ذکر کرتے رہو۔جس چیز سے آدمی ڈرتا ہے، اس سے بھاگتا ہے، اس کے نام سے بھی بھاگتا ہے۔پس جو بھی مطلب ہے، تقویٰ کا یہ مطلب بہر حال نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ کو بلا سمجھو اور مصیبت جانو۔پھر تقویٰ کا کیا مطلب ہے؟ تقویٰ کا اصل مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ایسا پیار کرو کہ ہمیشہ یہ خوف دامن گیر رہ جائے کہ کہیں خدا ہمیں چھوڑ نہ دے۔کہیں مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے کہ خدا کے ہم سے تعلق میں کمی آجائے۔یہ خوف ہے۔یہ خوف نہیں کہ خدا ہمارے قریب نہ آجائے کہیں ، نعوذ بالله من ذالک۔پس تقویٰ کا مضمون جب آپ سمجھیں تو خوف خدا کا مطلب ہی اس سے محبت ہے۔اصل میں جس شخص سے محبت زیادہ ہو جائے ، اس کے بارے میں یہ خوف ضرور دل میں دامن گیر ہوتا ہے۔ہر وقت آدمی وہموں میں مبتلا رہتا ہے کہ میرا محبوب مجھ سے ناراض نہ ہو گیا ہو۔فرضی باتوں پر بھی و ہم پیدا ہو جاتے ہیں دل میں۔چنانچہ فارسی میں محاورہ ہے: عشق است و ہزار بدگمانی ایک عشق اور ہزار بدگمانیاں۔بدگمانیاں ان معنوں میں کہ او ہو کہیں فلاں وقت جو مجھے نہیں دیکھا پوری طرح کہیں وہ ناراض تو نہیں تھا۔فلاں وقت اس نے یہ بات کی، کہیں یہ مراد تو نہیں کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔792