تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 619

تحریک جدید -- ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 جولائی 1987ء ہے تو اسے کس طرح حل کرنا چاہئے۔تو ان سے لاعلمی میں وہ حرکتیں سرزدنہ ہوتیں، جن کے نتیجے میں وہ جماعت سے باہر نکالے گئے۔اگر امیر کو یہ احساس ہوتا کہ میں تو ان بھیڑوں پر نگران ہوں اور گڈریا ہوں، بھیٹروں کا مالک نہیں ہوں۔ایک بھی بھیڑ ضائع ہو گئی تو حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، جن کی وساطت سے مجھے یہ امارت نصیب ہوئی ہے، جن کی عطا سے کہنا چاہئے ، مجھے امارت نصیب ہوئی ہے، میں ان کے سامنے جوابدہ ہوں۔اور وہ میرے نگران ہیں۔اور بالآخر میں خدا کے سامنے جواب دہ ہوں۔اس لئے وہ امیر، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے ہر فرد کا در درکھتا ہے، وہ آسانی سے یہ بات ہونے ہی نہیں دیتا کہ کوئی انسان آگ کے کنارے تک پہنچ جائے۔حتی المقدور کوشش کرتا ہے، محبت اور پیار سے سمجھا کر کہ کسی طرح ایک ایسا شخص جو غلط نہی کا شکار ہوتا چلا جارہا ہے یا انانیت کا شکار ہو رہا ہے، اس کی اصلاح کرے، اس سے محبت اور پیار کا سلوک کرے، اسے سمجھائے اور بالعموم ایسے امراء، جو در در رکھتے ہیں جماعت کا، جو برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک احمدی بھی ضائع ہو، ان کے ہاں اتحاد کی اور شکل ہوتی ہے۔اور وہ امراء، جو بے حس ہوں، اس معاملے میں ان کے ہاں اتحاد کی اور شکل ہوتی ہے۔پھرا میر اور عام صدر میں ایک فرق ہے۔عموماً صدر تو لوگ خود بناتے ہیں لیکن امیر مقرر کیا جاتا ہے۔اس لئے اگر صدر غلطی کرے تو لوگوں کے انتخاب کی وجہ سے وہ اس کی ذمہ داری چھوٹی ہوتی ہے۔اس نے گویا ان کے انتخاب کو جھوٹا کر دکھایا۔لیکن جب امیر غلطی کرتا ہے تو وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ ہوتا ہے، وہ خلیفہ وقت کے اعتماد کوٹھوکر لگاتا ہے۔اور اس کی غلطی کے نتیجے میں جو گناہ سرزد ہوتا ہے، وہ اس معاملے میں بہت زیادہ باز پرس کا اہل ہوتا ہے۔بنسبت ایک عام صدر کی غلطی کے۔پھر امیر بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ امیر ہیں، جن کو لوگ منتخب کرتے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا مشورہ ہے چاہیں تو قبول کریں، چاہیں تو نہ قبول کریں۔آپ جس کو چاہیں، مقرر کر دیں گے، ہم اسے قبول کریں گے۔لیکن آپ نے مشورہ مانگا ہے تو ہم یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کو یا اس کو یا دو تین آدمیوں کے نام لیتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کر لو۔آخر وہ انتخاب خلیفہ وقت کا ہی ہوتا ہے۔لیکن اس میں ایک حصہ لوگوں کے مشورے کا بھی شامل ہو جاتا ہے۔لیکن بعض امراء ایسے ہیں، جو سلسلے کے کارکن، جو غیر ملکوں میں جا کر امیر بنائے جاتے ہیں، ان کی امارت میں مقامی لوگوں کی مرضی کا کوئی بھی دخل نہیں ہوتا۔کلیہ باہر سے ہی ان کو حکم ملتا ہے۔اب ایسی حالت میں آپ اندازہ کریں کہ ان جماعتوں کے اخلاص کا کیا حال ہوگا، جن کے اندر عام دنیا میں یہ خیالات بیدار ہوتے چلے جارہے ہیں اور باہر سے 619