تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 620
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 جولائی 1987ء پھر تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم متفرق حرکات ان کو اور حوصلہ دے رہی ہیں کہ غیر قوموں کی اطاعت سے باہر نکلو۔ہر شخص جو باہر سے آتا ہے، وہ چور ہوتا ہے۔ہر وہ شخص جو باہر سے آتا ہے، وہ تم پر حکومت جتانا چاہتا ہے۔اس کے باوجود وہ ایسے امیر سے بالعموم بہت تعاون کرتے ہیں اور ایسے امیر کی اطاعت کرتے ہیں، اس کا ہر حکم مانتے ہیں۔ان کے اخلاص کا اندازہ کریں اور پھر ایک ایسے امیر کا تصور باندھیں، جو اس اخلاص کے باوجو دان کو ہاتھ سے کھوتا چلا جاتا ہے اور اپنے اعتماد کو بار بار ھو کر گاتا ہے۔اپنی امارت جتانے کا اس کو زیادہ شوق ہوتا ہے، بنسبت اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے کوئی شخص اپنا تعلق توڑ کے باہر جا رہا ہے۔اور جھگڑا ہی ہر وقت اس کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح میں اپنی امارت جتاؤں، ثابت کر کے دکھاؤں کہ میں امیر ہوں۔امارت کے آداب سکھانا، اس کا فرض ہے ، ضروری ہے اس کے لئے کہ ان کی تربیت کرے اور جماعت کے عالمی نظام کا ایک جزولاینفک بنادے۔لیکن امارت جتا کر نہیں بلکہ محبت کے ساتھ اپنی امارت کو ان کے دلوں پر حاوی کر کے۔یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔اعلیٰ درجے کے امراء، جو جماعت میں پیدا ہوئے اور ابھی بھی ہیں اور آگے آئندہ بھی خدا کے فضل سے پیدا ہوتے رہیں گے، ان کے ہاں آپ کو کہیں بھی امارت جتانے کا کوئی لمحہ دکھائی نہیں دے گا۔وہاں تو یہ شکل بنتی ہے کہ اپنے احکامات کو حکم کہنے سے وہ شرماتے ہیں۔یوں لگتا ہے، جس طرح بھائی سے ایک عاجزانہ درخواست کر رہے ہیں۔لیکن آگے ان کی امارت میں شامل احمدیوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اشاروں کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ جدھر اشارہ کرے وہاں آگے بڑھ کر ہم ان کی اطاعت میں اعلیٰ جو ہر دکھائیں۔یہ ہے وہ مضمون، جس کو قرآن کریم میں بیان فرمایا کہ تم اخوانا ہو گئے تم بھائی بھائی بن گئے۔پس جو امیر جماعت کو بھائی بھائی نہیں بناتا یا بھائی بھائی بنانے کی کوشش نہیں کرتا یا یوں کہنا چاہئے کہ مقدور بھر کوشش نہیں کرتا ، وہ یقینا خدا تعالی کے ہاں پوچھا جائے گا۔ہم ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ہماری ذمہ داریاں بہت تیزی سے پھیلنے والی ہیں۔بالکل ایک نیا دور آنے والا ہے، جماعت کے لئے۔بہت تیز رفتاری پیدا ہونے والی ہے، ہماری ترقیات میں۔بہت نئے رستے ہیں، جو خدا کی طرف سے اب کھو لے جارہے ہیں۔جن کے اندر جب خدا کی تقدیر کی کنجیاں گونجتی ہیں تو میں ان کی آواز سن رہا ہوتا ہوں۔ایسے رستے ہیں، جو خدا دکھا رہا ہے کہ اب اس ملک میں بھی میں تمہارے لئے سامان پیدا فرمارہا ہوں، اس ملک میں بھی تمہارے لئے سامان پیدا فرما رہا ہوں۔620