تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 618
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم چھینا جارہا تھا۔اب تمہیں ہوش آئی ہے کہ ہمارے ساتھ کچھ ہو گیا ہے۔بظاہر عیسائیت کے نام پر ہمیں نعمتیں دینے آئے تھے لیکن روحانی نعمتیں دینے کے بہانے ہماری ساری جسمانی دولتیں لوٹ کے چلے گئے۔اس لئے تم ہر آنے والے کو ، باہر سے آنے والے کو اب شک کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئے ہو۔لیکن تم یہ فرق نہیں کرتے کہ جماعت احمد یہ ستر سال سے تمہارے ملکوں میں کام کر رہی ہے لیکن اس ستر سال میں ایک آنہ بھی تمہارے ملک سے باہر لے کے نہیں گئی۔وہ صرف روحانیت دینے نہیں آئی بلکہ جسمانی لحاظ سے بھی تمہاری حالت بہتر بنانے آئی ہے۔اور باہر سے روپیہ تمہارے ملکوں میں پھینک رہی ہے۔تو کم سے کم اتنی ہوش تو کرو کہ کسی اور سے سزا پا کر اس کی سزا ہمیں نہ دو۔پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ گدھے سے گرا اور کمہار کو مارنا شروع کر دیا۔جس گدھے سے گرے ہو، اس کو بے شک ما رو لیکن ہم تو وہ نہیں ہیں۔بہر حال وہ بات سمجھ گئے اور وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے۔اصل صورتحال ان کو معلوم ہوگئی۔تو بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض قوموں میں بعض نفسیاتی اور سیاسی پس منظر ہیں، جن کے نتیجے میں وہ آمادہ ہو جاتی ہیں طبعا کہ وہ کسی بیرونی آمر، جس کو وہ سمجھتی ہیں یعنی حکم دینے والا ، در اصل امیر جو ہے، وہ تو اپنا حکم نہیں دیتا، وہ خدا کا حکم دینے والا ہوتا ہے لیکن اس بار یک فرق کو تو باہر والے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔چنانچہ بہر حال وہ اس وجہ سے امیر کو آمر سمجھنے لگ جاتی ہیں اور جب وہ حکمت کے تقاضوں کو چھوڑ کر ان کو بعض احکامات کی پیروی پہ مجبور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بدک جاتی ہیں، بھاگ جاتی ہیں۔پھر آہستہ آہستہ اس کے فیصلوں کے اوپر کڑی نکتہ چینی شروع ہو جاتی ہے کہ تمہارا یہ فیصلہ غلط ہے، وہ فیصلہ غلط ہے۔بہر حال یہ ایک لمبی کہانی ہے، اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔میں اس وقت آپ کے سامنے خصوصیت کے ساتھ اب یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ ہر جگہ افراد کا قصور نہیں ہوا کرتا۔بعض دفعہ امراء کا بھی قصور ہوتا ہے۔اور اگر افراد کا قصور ہو بھی ، تب بھی اس قصور کے زیادہ بھیانک نتیجے امراء کے قصور کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے یہ جو بقیہ عرصہ ہے، اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے اس میں، میں امراء کو تنبیہ کرنے کے لئے آج یہ خطبہ دے رہا ہوں ، تمام دنیا کے امراء، جن کے سپر د جماعتوں کی باگ ڈور کی گئی ہے۔افریقہ کے ممالک میں میرا تجربہ ہے اور میں نے گزشتہ فائلوں کا مطالعہ کر کے بھی دیکھا ہے کہ اگر چہ بظاہر غلطی کا آغاز ایک بغاوت کی شکل میں بعض افراد سے اور بعض افراد کے گروہوں سے شروع ہوا لیکن عملاً اگر امیر متقی ہوتا اور ان کو ان کے حقوق بتاتا اور یہ بتاتا کہ اگر ان کو کوئی تکلیف ہے یا کوئی اختلاف 618