تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 34

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 مئی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اگر چہ اس کی ظاہری حالت بہت خراب ہے۔آپ یہاں جس ہال میں بیٹھے ہیں، کافی وسیع کمرہ ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر بھرا ہوا ہو تو تقریباً دو سو آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔اسی طرح کا ایک اور ہال اوپر ہے۔جس ہال میں آپ بیٹھے ہوئے ہیں، اس کی حالت تو آپ کو خراب نہیں نظر آ رہی۔امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت نے اسے بہت محنت کر کے اس قابل بنایا ہے کہ یہ اچھا دکھائی دے رہا ہے۔ورنہ جس جگہ ابھی جماعت احمدیہ کے رضا کار کام نہیں کر سکے، آپ اس جگہ کو جا کر دیکھیں تو یہ عمارت بہت ہی خستہ حالت میں ہے یا خستہ حالت میں تھی۔لیکن اب انشاء اللہ تعالیٰ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے رنگ بدلنے لگیں گے۔اسی قسم کا ایک ہال اوپر بھی ہے۔پھر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے۔وہاں بھی بہت سے کمرے ہیں۔خرج تو کرنا پڑے گا اور کچھ مزید محنت کرنی پڑے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ عمارت جماعت کی موجودہ فوری ضرورتوں کو بھی پوری ہو سکے گی اور آئندہ چند سال تک بھی ہماری ضرورتیں پوری کرتی رہے گی۔جو انجینئر زمیں نے دیکھنے کے لئے بھجوائے تھے ، وہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے اسے خوب اچھی طرح دیکھا ہے اور ہرفنی نقطہ نگاہ سے اس کی پڑتال کی ہے، اس کا صرف ٹھوس پتھر کا ملبہ وہی موجودہ قیمت، جو ہمیں دینی پڑ رہی ہے، اس سے زیادہ قیمت کا ملبہ ہے۔اور یہ موقع اتنا اچھا ہے کہ اگر یہاں چھٹیل زمین بھی پچیس ہزار پونڈ میں مل جاتی تو وہ بھی ایک اچھا سودا تھا، اس لئے اس عمارت کو تو آنکھیں بند کر کے لے لینا چاہئے۔جہاں تک جماعت کی ضروریات کا تعلق ہے۔اگرچہ موجودہ حالت میں جماعت کی تعداد تھوڑی ہے اور بظاہر اتنی بڑی عمارت کی ضرورت نہیں۔مگر ضرورتیں پھیلتی جاتی ہیں۔اس لئے مشورہ یہی تھا کہ بہر حال اس موقع کو ہاتھ سے نہیں کھونا چاہئے۔چنانچہ ان امور کے پیش نظر فیصلہ تو بہت دیر سے تھا لیکن ہر منزل پر آکر کچھ روکیں بھی پیدا ہوتی رہیں لیکن خدا تعالیٰ نے بالآخر ہر روک اٹھا دی اور آج یہ مبارک جمعہ ہے، جس میں ہم اس عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں۔جب میں افتتاح کہتا ہوں تو میری مراد وہ افتتاح نہیں، جس کی دنیا میں رسم موجود ہے۔اس افتتاح کے تو کوئی بھی معنی نہیں ہوتے۔اس افتتاح کی تو کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔کیونکہ اس میں تو چند آدمی اکٹھے ہو کر رنگ و روپ کا مظاہرہ کر دیتے ہیں، کچھ دکھاوے ہو جاتے ہیں، کچھ تصاویر ہو جاتی ہیں، فیتے کاٹے جاتے ہیں۔لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے، حقیقت بالکل ویسی رہتی ہے، اس میں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ایک آیا یا دوسرا آیا، الف نے افتتاح کروایا یاب نے افتتاح کروایا، یہ سب بے معنی اور 34