تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 77
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد هفتم خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء اس کی مثال اسی طرح ہے، جیسے ڈاکٹر کے نزدیک یہ بات زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کہ بیماری کس حد تک بڑھ چکی ہے؟ اس کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہوتی ہے کہ آیا مریض کا جسم دوائی کے اثر کو قبول کرتا ہے یا نہیں؟ اگر کرتا ہو تو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضل سے صحتیابی کی امید ہوتی ہے۔اگر اثر قبول کرنے کی حالت گزر چکی ہو تو خواہ آپ کچھ بھی کریں، کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔مجھے یاد ہے، ایک دفعہ ایک مریض کو مجھے دیکھنے کا موقع ملا، جسے کسی متعدی مرض کی وجہ سے 107 یا 108 تک بخار ہو چکا تھا، ڈاکٹر نے جسم پر برف استعمال کر کے بخار کم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔اپنے مخصوص شعبہ میں لاہور کا سب سے ماہر اور اچھا ڈا کٹر تھا۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ باوجودیکہ آپ کے پاس جدید اور مؤثر ادویات موجود ہیں، پھر بھی بخار میں کمی واقع نہیں ہورہی ؟ ڈاکٹر نے جواب دیا کہ جب تک جسم دوائی کا اثر قبول نہ کرے، اس وقت تک محض دوائی کچھ نہیں کر سکتی۔اگر چہ ہم نے مریض پر اینٹی بائک ادویات کا ضرورت سے کچھ زیادہ ہی بوجھ ڈال دیا ہے لیکن جسم کوئی اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔لہذا ہم بے دست و پا ہیں، کچھ نہیں کر سکتے۔اس سے قبل میرا خیال تھا کہ اگر متعدی بخار کے مریض کو اینٹی بائٹک دوائیاں دی جائیں اور یہ بیکٹیریا کے مطابق موزوں ہوں تو دوائی بہر حال اثر کرتی ہے۔لیکن اس دن میری یہ غلط فہمی دور ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ جسم کو خود اثر قبول کرنے کے قابل ہونا چاہیے، تب کوئی مفید نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔پس اس نقطہ نگاہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت اپنے اندر اثر قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں بھی ہم نے کام کیا، تجربہ کیا، ہر میدان میں احمدیت کو زندہ پایا۔ممکن ہے، بعض اوقات کہیں نیند اور غفلت کی کیفیت طاری ہو۔لیکن پھر بھی آپ احمدی کو بیدار کر کے اس سے کام لے سکتے ہیں اور وہ نیک اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔بنیادی طور پر ایک احمدی کی تربیت اچھی ہوتی ہے۔ان لوگوں کی حالت ، جو کام کروانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کی حالت بعض اوقات بدلتی رہتی ہے، جس کے نتیجہ میں نتائج بھی بدل جاتے ہیں۔جب آپ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کینیڈایا جماعت احمدیہ امریکہ کسی دوسرے ملک سے پیچھے ہے یا آگے ہے، اس میں جماعت کا قصور نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذمہ دار جماعت کے عہدیدار ہوتے ہیں۔پس مجلس انصار اللہ کی ذمہ داری تمام کی تمام ایگزیکٹو باڈی پر جا پڑتی ہے۔اس لئے جب میں آپ سے خطاب کرتا ہوں تو آپ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ آپ میں سے ہر ایک نے اپنی ذمہ داری 77