تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 78

خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم ادا کرنی ہے۔اور آپ انفرادی ذمہ داریوں سے کسی صورت میں سبکدوش نہیں ہو سکتے۔لیکن مرکزی مجلس عاملہ اور مقامی مجالس عاملہ کے اراکین پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہیں اس بات پر پختہ یقین ہونا چاہئے کہ اگر وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ جد و جہد کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کے اچھے نتائج ضرور پیدا ہوں گے۔لیکن اگر عہدیداران ہی انصار اللہ کے کام کو نہ صرف اختیاری سمجھیں بلکہ غیر ضروری سمجھیں اور یہ خیال کرنے لگیں کہ کام کریں یا نہ کریں، اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔تو پھر یہی غفلت کی کیفیت باقی انصار میں پیدا ہو جائے گی اور ان کا احساس ذمہ داری عہدیداران سے بھی کم ہو جائے گا۔پس یہ وقت ہے کہ مجلس انصاراللہ یو۔کے کے کام کو انقلابی جذبہ سے شروع کیا جائے اور خاص طور پر ایک میدان میں، میں آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ضرور برآمد ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔اور وہ ہے، تبلیغ۔دعوت الی اللہ یعنی لوگوں کو خدا کے نام پر خدا کی طرف بلانا۔یہی کام اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہے، جو ہم نے کرنا ہے۔میں اس امر کی جتنی بھی تلقین کروں ، پھر بھی اس کی اہمیت مزید تلقین کا مطالبہ کرتی رہے گی۔اگر میں متواتر آپ لوگوں کو اس کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق تلقین کرتا رہوں، پھر بھی میں اپنے فرض کو مکمل طور پر ادا کرنے میں قاصر رہوں گا۔اور نہ ہی آپ کے دل و دماغ میں اس کی حقیقی اہمیت کو نقش کر سکوں گا۔زمانہ بہت تیز رفتاری سے گزر رہا ہے، پہلے ہی یہ ہمیں بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے اور دنیا میں تیزی سے تغیرات رونما ہور ہے ہیں اور اس زمانے کونئی شکل دی جارہی ہے۔اور آپ سے یہ توقع کی گئی ہے کہ آپ نے دنیا کی تقدیر کو بدلنا ہے۔یہ بہت اہم اور مشکل کام ہے، جو آپ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔مگر بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر نیند کی حالت میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم جماعت میں صرف اپنی ذاتی بیداری کا ثبوت دے دیں تو یہ کافی ہے۔حالانکہ یہ ہرگز کافی نہیں۔جہاد فی سبیل اللہ اللہ کے راستہ میں قربانی کرنا اللہ کے لئے بدی کے خلاف جنگ کرنا اور اللہ کے لئے دوسروں کو اسلام میں شامل کرنا ، آدھا ایمان ہے۔ایمان دوحصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک حصہ کا تعلق آپ کی اپنی ذات سے ہے۔یعنی آپ، آپ کے بیوی بچے اور رشتہ دار اور جماعت۔دوسرے حصہ کا تعلق باقی کی دنیا سے ہے۔اور یہی ہم کو قرآن کریم اور احادیث نبویہ بتاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا نمونہ بھی اس معاملہ میں نہایت واضح ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ یعنی دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا، اگر پہلے حصہ سے زیادہ اہم نہیں تو کو کم بھی ہر گز نہیں۔اور اس کے باوجود ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ فروعی حصہ ہے اور ہم کریں یا نہ کریں، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔حالانکہ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ ہم اس مقام سے بہت پیچھے جاپڑے ہیں، جس پر ہم کو 78