تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 76
خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم اس کے کہ انصار اللہ تبلیغ کے کام میں خدام الاحمدیہ سے پیچھے تھی، پھر بھی دو، تین سالوں کے اندراندر خدا تعالی کے فضل سے مجلس انصار اللہ مجلس خدام الاحمدیہ سے آگے نکل گئی۔پھر بعد میں خدام الاحمدیہ نے بھی تگ و دو کر کے کمی کو پورا کر لیا۔اگرچہ مجھے معلوم نہیں کہ اب ان دونوں تنظیموں کے باہمی مقابلہ کی کیا حالت ہے؟ تاہم دونوں اس کام میں تسلسل کے ساتھ جد و جہد کر رہی ہیں۔سے لیکن مجلس انصارالله یو کے نے اس میدان میں کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں کیا، جسے میں اس وقت فخر کے ساتھ پیش کر سکوں۔انگلستان میں تبلیغ کا کام بالعموم مرکزی مبلغین کی تگ و دو سے ہو رہا ہے۔اور ان کی کوششوں کے نتائج میں بھی باہم بہت فرق نظر آتا ہے۔بعض اپنی خدا داد صلاحیتوں کی وجہ۔دوسروں کی نسبت زیادہ تعداد میں رضا کار مبلغ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اور بعض تبلیغ کے فن میں زیادہ مہارت رکھتے تھے، لہذا انہوں نے دوسروں کی نسبت زیادہ اچھے رنگ میں تبلیغ کا فن سکھایا ہے۔اور اب صورتحال یہ ہے کہ جب مبلغین کے زیر نگرانی کام کرنے والے مختلف ریجنز کے کام کا جائزہ لیا جائے تو ان میں ایک نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔کچھ بہت پیچھے ہیں اور کچھ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت آگے ہیں۔اگر چہ اس جائزہ سے بعض کا کام قابل تعریف اور بعض کا قابل فکر معلوم ہوتا ہے۔لیکن میرے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس جائزہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ احمد بیت، جس مادہ سے بنی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔اگر آپ کام کو منظم کریں، اگر آپ احباب جماعت کو بار بار ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں اور ٹھیک طور پر ان کی نگرانی کریں تو وہ نتیجہ خیز کام کرنے لگتے ہیں۔چنانچه با وجود یہ کہ یو کے میں خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ تمام ریجنوں میں ایک جیسی ہے، پھر بھی جہاں کام کو منظم کرنے والے عہدیداران بہتر صفات کے مالک تھے، وہاں جماعت نے بہت بہتر نتائج پیدا کئے ہیں۔مالی قربانیوں کے میدان میں بھی جماعتوں کی حالت کا موازنہ کیا جائے تو یہی امر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔جہاں تک احمدیوں کے مقام کا تعلق ہے ، وہ اس لحاظ سے بہت اعلیٰ ہے کہ احمدی ہمیشہ نیکی کی بات کو سننے کے لئے تیار ہوتا ہے۔وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے، جس میں انسان نصیحت کو قبول کرتا ہے اور بہترین رد عمل ظاہر کرتا ہے۔اور یہی ترقی کے لئے سب سے ضروری امر ہے۔اگر کوئی شخص نصیحت کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے مستقبل میں ترقی اور بہتری کی امید ہوتی ہے۔اور جب وہ نصیحت کو قبول کرنا چھوڑ دے تب ہلاکت کا خوف ہوتا ہے۔76