تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 838 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 838

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ہفتم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے مزاج سمجھنے کے لئے امریکن لوگ آگے آنے چاہئیں۔جاپان کا مزاج پھر کیوں اہمیت نہیں رکھتا؟ جاپان کا مزاج بھی تو اہمیت رکھتا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے اور اس کو غالب کرنے کے لئے جاپانیوں کے ہاتھ میں لیڈرشپ چلی جانی چاہئے۔اور نائیجیریا کا مزاج سمجھنا چاہئے اور پھر غانا کا مزاج سمجھنا چاہئے اور سیرالیون کا مزاج سمجھنا چاہئے ، انگلستان کا سمجھنا چاہئے، جرمنی کا سمجھنا چاہئے ، چین کا سمجھنا چاہئے ، کوریا کا سمجھنا چاہئے، بے شمار دنیا میں ممالک ہیں۔ایک سو چودہ (114) ممالک میں جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے قائم ہو چکی ہے۔کیا خلیفہ ایک سو چودہ ممالک میں پیدا ہو گا بیک وقت؟ اور ایک سو چودہ کی ممالک کی تربیت میں جوان ہوگا ؟ اگر نہیں تو پھر وہ کیسے دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچائے گا۔یہ آواز اٹھ رہی ہے۔حالانکہ قرآن کریم بتاتا ہے کہ ایک ہی مزاج ہے، جس پہ انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔اور اس مزاج پر اسلام کو پیدا کیا گیا ہے۔یہ دین فطرت ہے۔یہ دعویٰ ہے اسلام کا۔اس دعوے کی بناء پر یہ عالمگیر مذہب ہونے کا اہل ہے۔یہ آواز جو اٹھتی ہے کہ امریکہ کے لئے امریکہ کا مزاج سمجھنے والے چاہئیں۔یہ بظاہر ایک جدید آواز ہے لیکن قدیم ترین آواز ہے۔ایک پرانے زمانے کی آواز ہے۔اس زمانے کی آواز ہے، جبکہ مذاہب قومی اور ملکی ہوا کرتے تھے، ابھی اسلام پیدا نہیں ہوا تھا۔امریکہ میں امریکہ کی طرف نبی آئے تھے، یورپ کے ممالک میں یورپ کے ممالک کو مخاطب کرنے والے نبی آئے تھے، جاپان میں جاپان کو خطاب کرنے والے نبی آئے تھے اور Middle East میں Middle East سے مخاطب کرنے والے نبی پیدا ہوئے۔ساری دنیا کے مزاج کو خدا نے ملحوظ رکھا۔لیکن علاقائی نبی پیدا کئے۔کیونکہ علاقائی مزاج کو سمجھ کر پیغام دینے والا دنیا کو مخاطب نہیں ہو سکتا۔ایک ہی صورت تھی تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کی ایک ایسے عالمی نبی کو پیدا کیا جاتا، جو فطرت کا مزاج سمجھتا۔اس فطرت کا مزاج سمجھتا، جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔جس پر ہر کالے کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر گورے کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر سرخ کو پیدا کیا ہے، جس پر ہر زرد کو پیدا کیا ہے۔مشرق کو بھی پیدا کیا ہے، مغرب کو بھی پیدا کیا ہے۔چنانچہ اس نور کا جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے:۔لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ ( النور : 36) یہ تو عالمی نور ہے۔نہ یہ مشرق کی جائیداد ہے، نہ مغرب کی جائیداد ہے۔ہر ملک اور ہر قوم کی نمائندگی کرنے والا نبی ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطاب 838