تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 839
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد من اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 1987ء میں، جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے، بڑی شدت کے ساتھ ، بڑی سختی کے ساتھ قبائلی تقسیموں کو ردفرمایا۔جاہلیت قرار دیا۔انسان کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رہنے کی نصیحت فرمائی۔اور فرمایا کہ آج اس دن اور اس دن کی عزت کی قسم! جس دن میں بات کر رہا ہوں ( یعنی حج اکبر کا دن تھا) اس مقام کی قسم ! جس مقام پر میں کھڑا ہوں، اس دن کی حرمت، اس مقام کی حرمت میں تمہیں یاد دلاتا ہوں۔میں ان سارے جاہلیت کے خیالات کو ، میں جو انسان کو مختلف قوموں اور نظریوں میں تفریق کرنے والے ہیں ، اپنے پاؤں کے نیچے پھل رہا ہوں ، ہمیشہ کے لئے میں ان کو کچل چکا ہوں، کبھی کوئی تم میں سے ان کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔اگر تم سچے مسلمان ہو، اگر تم میری اس آخری نصیحت کی کوئی بھی قدر کرتے ہو تو یہ تفریقیں تمہارے پاؤں کے نیچے بھی ہمیشہ پچھلی جانی چاہئے۔یہ وہ دین ہے، جو دین واحد ہے۔جس نے تمام دنیا کی قوموں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔یہ ہے محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین، جو عالمی نبی تھے۔ہر قوم کو پیغام دینے کے لئے خدا کی طرف سے چنے گئے تھے۔پس پہلے بھی جب میں اس دورے پر حاضر ہوا تھا اپنے ذاتی طور پر، ایک مجلس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آپ ایسے آدمیوں کو بھیج دیتے ہیں، جو امریکن مزاج نہیں سمجھتے۔میں نے ان سے کہا کہ وہ حمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج سمجھتے ہیں کہ نہیں ؟ مجھے صرف اس میں دلچسپی ہے۔اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج سمجھنے والے غلام تمہارے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو امریکن مزاج سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں ، جاپانی مزاج سمجھتے ہوں یانہ سمجھتے ہوں، افریقین مزاج سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں، لازم اوہ اس بات کے اہل ہیں کہ تمہاری تربیت کر سکیں۔تمہارے مزاج اگر بگڑ جائیں گے تو اسلام کہاں کہاں تمہارے اس بگڑے ہوئے مزاجوں کی پیروی کرتا پھرے گا۔اگر تمہاری سوچیں ٹیڑھی ہو چکی ہوں گی اور مقامی بن گئی ہوں گی تو کہاں کہاں اسلام ٹیڑھا ہو کر تمہاری سوچوں کی پیروی کرتا پھرے گا۔تمہیں ان ٹیڑھی سوچوں کو چھوڑنا ہوگا اور اس مرکزی بنیادی مزاج کی طرف آنا ہوگا، جومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج ہے۔وو تم چاہتے ہو کہ اسلام تمہاری کجیوں کی پیروی کرے، تمہارے مطابق اپنا مزاج بدلنا شروع کرے، یہ نہیں ہو سکتا۔کسی قوم کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ اسلام کے عالمی مزاج کو قومی مزاج میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔اسی طرح جاپانیوں نے ہر مذہب کا حلیہ بگاڑا۔آج بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ جو مذ ہب جاپان میں داخل ہوا، ہم نے اس کو Japanised کر دیا۔یعنی بدھ ازم کو بھی Japanised بدھ ازم کے طور پر اپنایا، 839