تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 837
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء ہے۔اور اس کوشش میں دنیا کے اکثر ممالک میں کامیاب ہو چکی ہے۔اور بار ہادنیا کے اخبارات میں، کتب میں، ٹیلی ویژنز پر، ریڈیو پر ایسے پروگرام آپ سنتے ہوں گے، جن میں ان معاملات کی تفصیل بیان کی جاتی ہے کہ کس طرح کتنے اہم لوگ فری میسنری کے ممبر بن گئے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قبضہ ہے تو وہ انکار کرتے ہیں کہ نہیں، ہم تو ایک نیک سوسائٹی کے ممبر ہیں لیکن واقعہ نتیجہ یہی نکلتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس الہام کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یقین دلا دیا کہ تو اور تیرے غلام ہر خفیہ تنظیم کی سازش سے محفوظ کئے جائیں گے۔کیونکہ خدا یہ فرماتا ہے۔اس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہیں غیر اللہ کے تسلط سے آزاد کرے گا۔کیسے آپ آزادر ہیں گے؟ اس لئے کہ جب خدا کی محبت آپ کے دلوں پر غالب آئے گی تو غیر اللہ کا رنگ اس پر چڑھ ہی نہیں سکتا، آہی نہیں سکتا۔ایک دل میں دو محبتیں نہیں رہا کرتیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہم نے پیدا نہیں کئے۔مراد یہ ہے کہ جو محبت ایک دفعہ دل پر غالب آجائے، اس محبت کی طاقت ہے، جو ہر غیر محبت کو دھتکار دیا کرتی ہے۔یہ راز ہے، ایک طاقت کے سرچشمے کا۔اس لئے آپ خدا کی محبت کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس محبت کی خاطر اپنے سارے تعلق مضبوط کریں۔اس محبت کی بناء پر خلافت سے تعلق قائم رکھیں۔تو یقینا پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ہر دوسرا تعلق جس کی طرف آپ کو بلایا جائے گا، اس کی آپ کے نزدیک کوئی بھی اہمیت اور کوئی بھی قیمت نہیں ہوگی۔پھر اسی طرح اور بھی کئی ذرائع سے رفتہ رفتہ رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔شوری کے لئے جو تجاویز میں نے دیکھیں، چند دن ہوئے، میں حیران ہو گیا کہ کس طرح بعض لوگ لاعلمی سے اور بعض لوگ غالباً عمداً ایسی تجویزیں رفتہ رفتہ داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ لوگ جو امریکن پرورش میں جوان ہوئے ہیں، یہاں پیدا ہوئے اور یہیں بڑے ہوئے اور بعض امریکن قدروں سے واقف ہیں، وہ دھو کے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔اور نیکی کے نام پر ان کو برائی کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے۔مثلاً اگر یہ آواز اٹھے بار بار کہ جماعت احمدیہ کو امریکن مزاج کو سمجھنا چاہئے اور امریکن مزاج کو سمجھنے کے ذریعے وہ تبلیغ کر سکتے ہیں ورنہ ناکام ہو جائیں گے۔اس لئے امریکن مزاج جاننے والے او پر آنے چاہئیں۔یہ ظاہری نتیجہ ہے، جس کو مخفی رکھا جاتا ہے۔اگر جماعت احمد یہ امریکہ کے مزاج سے ناواقف ہے، خلیفہ وقت تو امریکہ کی پیداوار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے آئندہ کبھی خدا تعالیٰ اس ملک کو بھی اگر یہ تقویٰ کی آماجگاہ بن جائے ، خلافت کا مرکز بنا دے۔کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔مگر سر دست تو خدا تعالیٰ نے خلیفہ وہاں سے چنا ہے، جو امریکہ کی پیداوار نہیں اور بظاہر اس کو امریکہ کے مزاج کا کوئی علم نہیں ہونا چاہیئے۔837