تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 833
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء یہ آواز اٹھائی گئی تھی۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ شخص جس نے اس آواز کو اٹھایا، اس کے دل میں شیطان نے اثر کیا تھا اور براہ راست اس کے دل سے یہ آواز اٹھی تھی یا کسی شیطان نے اس کو اپنا آلہ کار بنایا تھا۔مگر دونوں صورتوں میں اس کی ایک بدنصیبی ہے۔وہ خدا کے دشمن کا آلہ کار بن گیا۔خواہ لاعلمی میں بنا، خواہ جان کر اور اس بات کو خوب پہچانے کے بعد بنا۔مگر دونوں صورتوں میں اس کی ایک بدنصیبی ہے۔اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ کی جماعت پر اس نوع میں بھی کئی قسم کے حملے پہلے ہو چکے ہیں۔یہ حملے ہمیشہ ایک طرف پر نہیں ہوا کرتے۔قرآن کریم ہمیں دوسری طرح مطلع فرماتا ہے کہ شیطان تم پر اس طرح حملے کرتا ہے کہ خود چھپ جاتا ہے اور تمہیں یہ بھی نہیں پتہ چلتا کہ کس طرف سے حملہ ہو رہا ہے"۔چنانچہ یہ جو حملے ہیں، مختلف رنگ میں ہوتے ہیں۔کبھی بلند شکل میں پیدا ہوتے ہیں، کبھی چھوٹوں کی شکل میں پیدا ہوتے ہیں۔کبھی محبت کے نام پر پیدا ہوتے ہیں، کبھی دشمنی کے نام پر پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ وسوسے اپنے رنگ بدلتے رہتے ہیں، نتیجہ ایک ہی ہے کہ وہ لوگ، جو حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں، ان کے درمیان میں رخنہ پڑ جائے اور ان کے درمیان افتراق پیدا ہو جائے اور ان کے او پر قبضہ کر لیا جائے۔چنانچہ امریکہ ہی میں ایک ایسا دور تھا، جبکہ امریکہ کی جماعت پر نیکی کے نام پر قبضہ کیا جانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔بعض لوگ ایسے تھے، جنہوں نے ایک دم جماعت کے کاموں میں آگے آنا شروع کر دیا۔اور ان کا ایک گروہ تھا، جن کا آپس میں تعلق تھا۔اور وہ ایک دوسرے کو بڑھاتے تھے۔اور جب میں نے تحقیق کی تو اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض ان کے ایجنٹ جماعتوں میں پھرتے تھے اور ان کی تعریفیں کرتے تھے۔کہتے تھے : فلاں شخص بہت نیک ہے اور بہت اعلیٰ خدمات کرنے والا ہے، کیوں اس کو آگے نہیں لایا جارہا؟ کہیں یہ وجہ تو نہیں کہ پاکستانی لیڈرشپ کو یہ خطرہ ہے کہ اس لیڈر شپ پر مقامی لوگ قابض ہو جائیں گے۔اس لئے ہمیں اچھے لوگوں کو ووٹ دینا چاہئے۔جو ہم میں سے ہیں، ان کا حق ہے کہ وہ آگے آئیں۔اس طرح پرو پیگنڈا کر کے بعض نہایت ہی اسلام کے خطرناک لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کی جارہی تھی۔جب میں 1978ء میں ایک عام احمدی کی حیثیت سے آیا یعنی خلافت کے منصب پر بھی خدا تعالیٰ نے مجھے فائر نہیں فرمایا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ بصیرت مجھے ایسی عطا فرمائی تھی، جس سے میں ان باتوں کو بھانپ لیتا تھا، پہچان لیتا تھا۔ان سب لوگوں سے میں نے تعلق قائم کیا، ایک ذاتی دورہ تھا، میں پھر رہاتھا۔833