تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 834
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم اور جہاں جہاں بھی موقع ملا، مقامی، بیرونی، ہر قسم کے احمدیوں سے بڑی محبت سے ملا اور ان کو قریب سے دیکھا۔اور واپس جا کر میں نے بعض لوگوں کے متعلق یہ رپورٹ کی کہ مجھے یہ نہایت خطرناک سازش دکھائی دے رہی ہے۔کچھ لوگ نیکی کے نام پر جماعت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور دو طرح کے خطرات ہیں۔اول: اگر وہ واقعہ نیک ہیں تو ان کو جماعت کے نظام کا علم کوئی نہیں۔ان کے اندر احمدیت گہری طور پر جذب نہیں ہے۔وہ بیرونی خیالات سے متاثر ہیں اور احمدیت اور اسلام کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔اور دوسرے مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایک سازش کے نتیجے میں ایسا ہو رہا ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کو یہاں کے بعض مخلص احمدیوں نے نہایت سادگی سے ان کو نیک سمجھتے ہوئے او پر لانے کی کوشش کی۔اور چونکہ مرکز متنبہ ہو چکا تھا، ان کی اس کوششوں کو رد کر دیا گیا۔اور ان کو وہ عہدے نہیں دیئے گئے، جن کے لئے ان کے نام پیش ہوئے تھے۔نتیجہ کچھ لوگوں کے اندر تو یہ غصہ سلگتا رہا کہ جماعت نے ہمیں چنا اور مرکز نے رد کر دیا، یہ کیا وجہ ہے؟ یہ کس قسم کی Democracy ہے؟ میں بتادینا چاہتا ہوں کہ یہاں دنیاوی کوئی Democracy نہیں ہے۔نظام جماعت خدا کی رسی سے شروع ہوتا ہے اور آسمان سے لٹکنے والی رسی ہے، جو نظام جماعت کی نمائندگی کرتی ہے۔زمین سے اٹھنے والی کوئی رسی نہیں ہے، جس کو آپ پ Democracy کہہ کر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔اگر واقعہ آپ کا تعلق اللہ سے ہے تو آپ کی نظر اللہ پر رہے گی۔اور ان لوگوں کی رضا آپ کی رضا بن جائے گی، جو خدا کی رضا پر چلتے ہیں۔اور Democracy کا بالکل ایک مختلف سے مختلف تصور پیدا ہوتا ہے۔وہ جو خدا کے لئے کام کرنے والے ہیں، جن کا خدا سے تعلق مضبوط ہے، ان کی رضا آپ کی اپنی رضا پر غالب آجاتی ہے۔اور ایسے شخص کو پھر کوئی خطرہ نہیں۔چنانچہ اس مضمون کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں کچھ لوگوں کے دلوں میں اعتراض پیدا ہوئے۔لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ جن کو خدا نے ایک بڑا عظیم الشان دنیا کا کام سپر دفرمایا ہے، جن کی تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمائی ، جن کو تقویٰ پر قائم کیا ، ان کو اہل تقویٰ کی بصیرتیں عطا فرمائیں، پھر خلافت کے زیر سایہ انہوں نے لمبی پرورش پائی ، بچپن سے بڑے ہوتے تک، بڑے ہو کر جوان ہوتے تک، جوان ہو کر بوڑھے ہوتے تک اور مرتے دم تک کامل وفا سے وہ اسلام کے ساتھ بڑی محبت کے ساتھ چھٹے رہے۔یہ وہ لوگ ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے تقویٰ پر قائم فرمایا ہے۔ان کے فیصلے اپنی انا کے مطابق نہیں ہوتے، ان کے فیصلے ہرگز اس بنا پر نہیں ہوتے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم پر غالب آجائے۔834