تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 800 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 800

خطبہ جمعہ فرمودہ 30اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم عادت تھی کہ وہ ہر بات کی تہہ میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔چند ایسے بزرگوں کے واقعات جب میں کہتا ہوں تو مراد یہ نہیں کہ اسلام میں صرف چند ایسے بزرگ ہی پیدا ہوئے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ چند ایسے بزرگوں کے واقعات ہم تک پہنچے ہیں۔ورنہ لاکھوں ایسے خدا کے بندے اسلام میں پیدا ہوئے ہوں گے، جن کی زندگیاں تشکر کے لئے وقف تھیں۔لیکن ان کے واقعات تاریخ میں ریکارڈ نہیں ہو سکے۔اور جن کی عادت اپنے دلی جذبات کو اس حد تک چھپانے کی تھی کہ وہ واقعات ریکارڈ کرنے کے لئے کوئی تیار بھی ہوتا تو اسے مہیا نہ ہوتے۔ایک واقعہ ان میں سے یہ ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ کی خدمت میں مٹھائی کا ٹوکرا لے کر آیا ، جس میں بہت سے لڈو تھے۔اور ان کے ساتھ بہت سے شاگر د بھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے وہ لڈو اپنے شاگردوں میں تقسیم کر دیئے اور ایک لڈو خود اٹھالیا۔اور شاگرد تو ایک سے زیادہ لڈو کھا کر بہت دیر پہلے فارغ ہو گئے لیکن وہ بزرگ اس میں سے ایک ایک دانہ منہ میں ڈالتے تھے اور کچھ سوچتے رہتے تھے اور اسے چہاتے رہتے تھے۔یہاں تک کہ جب انتظار میں دیر ہوگئی تو ایک شاگرد نے ادب سے پوچھا کہ آپ نے تو ابھی ایک معمولی حصہ بھی لڈو کا نہیں کھایا جبکہ ہم مدت سے فارغ ہو چکے ہیں، کیا بات ہے؟ کوئی خاص پریشانی کی بات تو نہیں؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب میں نے پہلا دانہ منہ میں ڈالا تو مجھے خیال آیا کہ بظاہر یہ صرف ایک حلوائی کی کوشش کا نتیجہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے قوانین اور ان قوانین کے تابع بہت سے کام کرنے والے اس لڈو کی تعمیر میں اس سے بہت پہلے حصہ لے چکے ہیں۔اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ مجھ تک جو خدا تعالیٰ نے یہ لڈو پہنچایا، اس سے پہلے کتنے خدا تعالیٰ کے احسانات ہیں، جنہوں نے مجتمع ہو کر اس لڑو کی شکل اختیار کی۔انہوں نے کہا: میں نے سوچا کہ ایک وقت ایک زمیندار گنے کا بیج لے کر نکلا ہو گا، پتا نہیں کس موسم میں ، کس تلخی کے ساتھ وہ کھیتوں تک پہنچا۔اور اس سے پہلے اس نے کھیت کی تیاری میں بھی بہت محنت صرف کی ہوگی۔پھر اس نے گنے کی قلمیں اس کھیت میں کاشت کیں۔پھر سارا سال ان کی حفاظت کی ، ان کو پانی دیا ، ان کی کھاد کا خیال رکھا، چوروں اچکوں سے ان کو بچایا، پھر وہ وقت آیا کہ اس کا کھیت ہرا بھرا ہو کر جوان ہوا اور اس قابل ہوا کہ اس کو شکر میں تبدیل کر لیا جائے۔پھر اس نے وہ آلات خریدے، جن کے ذریعہ گنے کا رس نچوڑا جاتا ہے۔اس نے کہا: یہاں تک پہنچتے ہی میرا ذہن اس طرف چلا گیا کہ جن سے وہ آلات خریدے، ان آلات کی بھی تو ایک داستان ہے۔وہ لو با کسی زمانے میں زمین میں دبا ہوا تھا، جس نے اس آلے کا جز بننا تھا۔جس سے پھر 800