تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 799 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 799

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہی خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اکتوبر 1987ء تحریک جدید حضرت مصلح موعودؓ نے خدا تعالیٰ کے القاء کے نتیجے میں شروع کی خطبہ جمعہ فرمودہ 30اکتوبر 1987ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے ، کم ہے۔یہ ایک ایسا محاورہ ہے، جو عموماً خاص مواقع پر ، استعمال کیا جاتا ہے۔جیسے آج کا دن جبکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اس کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اس مسجد میں، جو پورٹ لینڈ میں ہی تعمیر ہونے والی پہلی مسجد نہیں بلکہ سارے امریکہ کے مغربی ساحل میں مجھے بتایا گیا ہے، یہ وہ پہلی مسجد ہے، جو اس ابتداء سے اسی غرض سے تعمیر کی گئی کہ خدا کے لئے ایک عبادت گاہ کے طور پر بنائی جائے گی اور آخر تک مسجد ہی کی غرض سے تعمیر ہوئی اور مکمل ہوئی۔تو یہ چونکہ سارے مغربی امریکہ کے ساحل کے ساتھ بنائی جانے والی پہلی مسجد ہے۔اس لحاظ سے یہ دن ہمارے لئے غیر معمولی خوشی کا دن اور غیر معمولی تشکر کا دن بنتا ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ محاورہ صرف چند مواقع کے لئے نہیں بلکہ زندگی کے ہر لمحہ پر چسپاں ہونے والا محاورہ ہونا چاہئے۔کیونکہ اگر آپ بنظر غائر دیکھیں، تدبر کریں اپنی زندگی کے حالات پر اور زندگی کا لمحہ لمحہ جو خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے۔اس کے پس منظر پر غور کریں تو خدا کا شکر کسی پہلو سے، زندگی کے کسی لمحہ میں بھی ادا ہو ہی نہیں سکتا۔صرف فرق یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر ایک قسم کی غفلت کی نگاہ سے اپنے گردو پیش کو دیکھتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔اور ہم میں سے اکثر اس بات سے بھی بے خبر رہتے ہیں کہ ان کی زندگی کی تعمیر میں قانون قدرت نے کتنی لمبی اور کتنی وسیع تیاری کی تھی۔اور کتنا عظیم چند سویا چند ہزار سال کا احسان نہیں بلکہ لاکھوں، کروڑوں اربوں سال کا احسان ہے، کائنات کے بنانے والے کا، جو ہماری زندگی کے بعد لھوں کی تعمیر کے لئے ایک منصوبے کی صورت میں ہم سے پہلے کھولا گیا تھا۔بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ہم میں سے اکثر بد قسمتی سے غفلت کی حالت میں رہتے ہیں، غفلت کی حالت میں زندگی گزار دیتے ہیں۔اس لئے ہم ایک دوسرے سے معاملات میں تو شکریہ کے جذبات نمایاں طور پر پاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے معاملات کے وقت غیر معمولی احسانات کو بھول جاتے ہیں۔چند ایسے بزرگوں کے واقعات ہمیں ملتے ہیں، جن کی 799