تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 801
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک گنے کا رس نچوڑا جانا تھا۔کس طرح خدا تعالیٰ نے انسان کو توفیق بخشی کہ وہ اس بات کو دریافت کرے کہ لوہا اس کے لئے مفید ہے۔پھر اسے اس فن میں ترقی دی۔سینکڑوں نسلیں اس کام میں لگی ہیں، یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے رفتہ رفتہ انسان اس قابل ہوا کہ ایسی مشین بنا سکے۔پھر وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے یہ مشین بنائی۔اور بالآخر جب یہ مشین تیار ہوئی تو اس زمیندار تک پھر یہ پہنچی۔کیسے پہنچی ؟ اس کی بھی ایک داستان ہے۔غرضیکہ وہ بتاتے رہے کہ جوں جوں میں غور کرتا چلا گیا اور شاخیں تصور کی پھوٹتی رہیں، جن پر میراتصور سفر کرتا رہا۔اور یہ اتنا معاملہ حد سے زیادہ پھیل گیا اور وسیع ہو گیا کہ کئی سفر کرنے کے باوجود بھی میں اب تک ان تمام مراحل پر غور نہیں کر سکا، جن مراحل سے گزرنے کے بعد یہ لڈو بالآخر اس شکل میں مجھ تک پہنچا ہے۔اور شروع سے آخر تک خدا تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ یہ نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی جائیں اور انسان شکر گزار بندہ بنے۔اور قرآن کریم میں واقعہ یہی ذکر ملتا ہے کہ ہم نے تمام کائنات کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے۔ایک لامتناہی سلسلہ ہے، احسانات کا جو جتنا غور کریں، اتنا کم ہونے کی بجائے پھیلتا چلا جاتا ہے۔تنگ ہونے کی بجائے وسعت پذیر ہوتا چلا جاتا ہے اور انسانی نگاہ کھوئی جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم غور کر کے دیکھو، تم خدا کی کائنات میں کہیں رخنہ نہیں پاؤ گے۔تمہاری نگاہیں واپس لوٹ آئیں گی تمہاری طرف لیکن پھر بھی یہ رخنہ نہیں پائیں گی۔پھر غور کرو، پھر نگاہیں دوڑاؤ، تمہاری نگاہیں تھکی ہاری ناکام ہو کر پھر تمہاری طرف واپس لوٹ آئیں گی مگر خدا کی کائنات میں تم کوئی رخنہ نہیں پاؤ گے۔یہ سفر تو لامتناہی ہے۔اور یہ ممکن نہیں کہ ہر انسان ہر لمحے میں اس ہر لمحے کا حق ادا کر سکے۔کیونکہ ایسے واقعات اور ایسی سوچوں کے لئے محرکات اگر چہ ہر وقت موجود ہیں لیکن انسان کی زندگی کے اور بھی کام اور بھی تو جہات کے مرکز ہیں۔اس لئے ناممکن ہے کہ ایک لمحے پر غور کرتے ہوئے انسان ان تمام باتوں کا جائزہ لے سکے، جو اللہ تعالیٰ کے احسان کے طور پر انسان کے پس منظر میں موجود ہیں۔اگر اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اگلے لمحے کا حق ادا نہیں ہو سکے گا۔اگر اگلے لمحے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے اگلے اور اس سے پچھلے لمحوں کا حق ادا نہیں ہوگا۔اس لئے جب ہم یہ کہتے ہیں: خدا کا جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے۔یہ کسی خاص موقع پر اسی محاورے کا استعمال نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمارے زندگی کے ہر لمحے پر یہ محاورہ چسپاں ہوتا ہے۔اور فی الحقیقت چسپاں ہوتا ہے اور بڑی وسعت اور گہرائی کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔پس آج بھی انہی لمحات سے ایک لمحہ ہے۔انہی ساعتوں میں سے ایک ساعت ہے۔جن کے شکر کا حق ہم ادا نہیں کر سکتے۔مگر ایک بات ضرور ہے کہ اگر مساجد کی تعمیر کے شکر کا حق ادا کرنا ہو تو عبادت کی 801