تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 794
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 123 اکتوبر 1987 ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد ہفتم میں ہر دم مرتے رہنے والوں پر کوئی دنیا کا معاشرہ غالب آ سکے۔جب یہ تعلق آپ کا قائم ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ بچپن ہی سے خدا کا ذکر نہ کریں۔جن لوگوں کے اوپر خدا کا خیال غالب رہتا ہے، وہ لازماً بچپن سے اپنے بچوں سے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں اور بچپن سے ہی ان کو خدا کے پیار کی باتیں سکھاتے رہتے ہیں۔چنانچہ احمدیت میں تو یہ عام بات ہے۔اور بہت سے ایسے خاندان، جن سے میری ملاقات ہوتی ہے سفروں کے دوران ان کے بچوں سے میں فوراً پہچان جاتا ہوں کہ ماں باپ کیسے ہوں گے ؟ بعض بچے ہیں، جو شروع ہی سے ان کی اداؤں سے پتا چلتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے پیار ہے اور باتیں بھی اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں۔اپنے اپنے رنگ میں غلطیاں بھی کرتے ہیں نا کبھی میں بعض دفعہ غلط تصورات پیش کر دیتے ہیں، جن کی اصلاح کر دی جاتی ہے۔لیکن اس سے ایک بات جو قطعی طور پر ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے ماں باپ نے ضرور بچپن سے ہی ان کے دل میں خدا کا پیار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ی وہ ایک ترکیب ہے، جو ہر دوسری ترکیب سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔آپ کا پیار خدا سے ضرور منعکس ہوگا آپ کے بچوں کے دلوں میں۔اور پھر ہر اس چیز سے آپ خوف کھائیں گے، جو آپ کے بچوں کو خدا سے دور لے جانے والی ہو۔اور آپ کے بچے آپ کی زندگی میں دیکھیں گے اس خوف کو۔آپ کے چہرے پر ان کی برائی کا غم ظاہر ہوگا۔یہ بات یاد رکھیں کہ چھوٹی عمر کے بچوں پر آپ جتنا بھی بوجھ ڈال دیں، بچے اتنا ہی بوجھ اٹھا لیتے ہیں۔جو لوگ بچوں پر رحم کرتے رہیں کہ نہیں! ہم اتنا بوجھ نہیں ڈالیں گے بعد میں سکھائیں گے تو بچے اس سے پہلے سیکھ چکے ہوتے ہیں۔اس عمر کے بعد بہت کم مزید سیکھنے کی اہلیت ان میں باقی رہتی ہے۔اس لئے شروع میں اہل زبان نے تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ چھ چھ ، سات سات زبا نہیں فر فر بچے بولتے ہیں اور بالکل ساری زبانیں مادری زبان کی طرح بولتے ہیں۔کیونکہ ان کے ماں باپ نے شروع سے ہی ان پر بوجھ ڈال دیا۔اس لئے بچوں کی فراست سے آپ خوف بھی کھا سکتے ہیں، ان سے امیدیں بھی وابستہ کر سکتے ہیں۔ماں باپ کے دلوں کی کمزوریاں، ماں باپ کے دلوں کی برائیاں بچے اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں ان کے چہرے بشرے میں پڑھ لیا کرتے ہیں۔ان کی دلی کیفیات کیا ہیں؟ ان کی دلی تمنائیں کیا ہیں؟ یہ بچوں سے اوجھل نہیں رہا کر تیں۔اس طرح ماں باپ کی خوبیاں بھی اور یہ بات کہ ماں باپ کا دل کس چیز میں انکا ہوا ہے، بچے بخوبی جانتے ہیں شروع سے اور اسی کے مطابق وہ پرورش پانے لگتے ہیں۔اس لئے 794