تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 795
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 اکتوبر 1987ء اگر ہمیشہ آپ کے دل میں خدا کا تعلق غالب رہے، ہمیشہ آپ کے دل میں یہ گمان رہے کہ کہیں خدانخواسته، یعنی ہم خدانخواستہ محاورہ کہتے ہیں، یہاں اس طرح چسپاں نہیں ہوتا مگر یہ وہم رہے کہ ایسا نہ ہو کہیں کہ اللہ تعالی مجھے سے ناراض ہو گیا ہو۔اور ایسا نہ ہو کہ میں نے آج ایسے اعمال کئے ہوں، جن کو خدا نے پیار سے نہ دیکھا ہو اور ایسے اعمال سے محروم رہ گیا ہوں، جن کو خدا پیار سے دیکھتا ہے۔اس تفصیل کے ساتھ اگر روزمرہ آپ اپنا جائزہ لینا شروع کریں اور یہ ذہن میں ایک لگن لگالیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے بچوں کے اوپر بھی اس کا پر تو پڑنا شروع ہو جائے گا۔اور خود بخود یہ قانون قدرت کے طور پر ان کے اوپر خدا کی محبت غالب آنے لگ جائے گی۔یہ ایک نسل کا تجربہ نہیں، سینکڑوں نسلوں کے تجربے ہیں۔ہمیشہ یہ طریق کار گر ثابت ہوا ہے۔پہلے بھی ، آج بھی اور آئندہ بھی کار گر رہے گا۔اس لئے اس پہلو سے اپنا جائزہ لیں۔اور جب میں کہتا ہوں کہ خدا سے پیار کر لیا کریں۔اس کا ذہن میں ہر وقت تصویر ہے تو بظاہر یہ عام بات ہے، معمولی سی بات دکھائی دیتی ہے۔آپ سب کہتے ہوں گے کہ ٹھیک ہے جی ! بڑا آسان طریقہ مل گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یاد کر لیا کریں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو اس تقویٰ کی اس تعریف کے ساتھ یاد کرنا اتنا آسان نہیں، جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر یاد کے ساتھ کچھ تقاضے وابستہ ہو جاتے ہیں اور ان تقاضوں کو جب آپ نظر انداز کر دیتے ہیں تو یا د مٹ جاتی ہے، وہ کالعدم ہو جاتی ہے۔اگر آپ کو بھوک لگی ہے اور آپ کچھ کھانا کھاتے ہیں لیکن کھانے کے لئے آپ کو پیش کیا جائے اور آپ نہیں کھاتے تو وہ بھوک بے معنی ہو جاتی ہے۔اگر آپ پیاس کا دعوی کرتے ہیں اور پانی آپ کو مہیا کر دیا جاتا ہے یا آپ کی پسند کا شربت پیش کر دیا جاتا ہے اور آپ نہیں پیتے تو آپ اس پیاس کو کالعدم کر دیتے ہیں۔یاوہ پیاس جھوٹی تھی یا پھر آپ عقل نہیں رکھتے کہ وہ پیاس بجھانے کا سامان بھی پیدا ہوا اور آپ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔تو اس طرح خدا کی یاد کے ہرلمحہ تقاضے ہوں گے، خدا کے پیار کے نتیجے میں ہر لمحہ مطالبے شروع ہو جائیں گے۔اچھا! تم مجھے یاد کرتے ہو، تم مجھ سے پیار کرتے ہو تو پھر یہ بھی کرو، پھر وہ بھی کرو اور ہر دفعہ جب یہ بھی کرو اور وہ بھی کرو کی آواز میں اٹھیں گی ، اس پیار سے تو ہر دفعہ آپ محسوس کریں گے کہ نہ میں یہ کرنے کا اہل ہوں، نہ میں وہ کرنے کا اہل۔اس وقت آپ کو پتا چلے گا کہ آپ کی محبت ایک رومانی محبت تھی، ایک افسانوی قصہ تھا، جس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔پھر ایک اور خوف دامن گیر ہو جائے گا۔اور وہ خوف یہ ہے کہ میں جو فرضی طور پر خدا سے پیار کے دعوے کرتا رہا ہوں، یہ تو اور بھی زیادہ گناہ ہے۔میں تو اپنی زندگی سے راضی ہو گیا ہوں۔میری حالت کیسی ہے؟ میں کیسے اسے تبدیل کروں؟ چنانچہ ایک ایسا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں جب * 795