تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 787
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد هفتم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 اکتوبر 1987ء پس آپ کے وجود اگر نیک ناموں سے تو وابستہ ہوں اور بظاہر اردگرد نیکی کا ملمع بھی موجود ہو لیکن اندر سینے میں خلا ہو، آپ کے اعمال میں خلا ہو تو قانون قدرت ہے کہ خلا باقی نہیں رہا کرتا، اس خلا کو ضرور کوئی چیز بھرتی ہے۔اگر نیکی نے نہیں بھرا تو بدی اس کو ضرور بھرے گی۔اس لئے قرآن کریم جب یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ تو مراد یہ ہے کہ اپنے نفوس کا پہلے جائزہ لو۔اگر برائیاں تم پر غالب آ رہی ہیں تو یقین کرو کہ تمہارے اندر حسنات موجود نہیں، یقین کرو کہ تمہیں و ہم ہے کہ تم اچھے ہو اور اپنی خلاؤں کو تلاش کرو اور ان خلاؤں کو نیکیوں سے بھرنے کی کوشش کرو۔کیونکہ جو وجود نیکیوں سے بھر جاتے ہیں، ان پر کبھی بدی غالب نہیں آیا کرتی۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی جماعت کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حسنات ہی ہیں، جو پہلے بھی غالب آئیں تھیں اور آج بھی غالب آئیں گی۔ان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، دنیا میں۔اس لئے انہیں اپنائے بغیر ، ہتھیاروں سے لیس کئے بغیر میدان میں نکلنا اور پھر یہ خیال کر لینا کہ ہم اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو بچا سکیں گے، یہ درست خیال نہیں“۔وو۔پس ایسی قوم جو ہتھیاروں کے بغیر نکلے اور دنیا پر غالب آنے کے دعوے کرے، وہ حماقت میں تو مبتلا قرار دی جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی دور کا بھی امکان ہے کہ یہ کبھی دنیا پر غالب آجائے گی۔تو اس چھوٹی سی آیت نے ہمیں اپنی کمزوریوں کی طرف توجہ دلا دی۔ہمیں یہ بتایا کہ ہمارا مقام کیا ہے؟ ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہم اپنی نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے آپ کو بچائیں۔جب تک ہم اپنے وجود کو نیکیوں سے نہیں بھرتے ، اس وقت تک آئندہ نسلوں کی حفاظت کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ وہی لوگ ہیں، جن کی اولادیں ضائع ہوتی ہیں، جن کے اندر خلا ہیں، جو خود مادیت سے پہلے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔وہ خود اپنا سرخم کر چکے ہوتے ہیں، دنیا کے رعب کے سامنے۔اور ان کی برائیوں کو بظاہر برائیاں سمجھتے ہوئے بھی، ان کی طرف ان کو جانے دیتے ہیں اور اس وقت تشویش محسوس نہیں کرتے۔جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں، جب ان کی عادات پختہ ہو جاتی ہیں، اس وقت ان کا کل نیکی کا جذ بہ اچانک جیسے ہوش آ جائے اس کو، اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اچھا اچھا! میری اولا د تو ضائع ہو رہی ہے، اس کو بچانے کی کوشش کی جائے۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ بچانے کی کوشش ہمیں اپنی ذات سے کرنی پڑے گی۔اگر ہمارے دل نیکیوں سے بھرے ہوئے ہیں، اگر ہمارے اعمال حسین ہیں تو پھر نہ ہمیں خوف ہے ، نہ ہماری اولاد کو کوئی خوف۔کیونکہ 787