تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 788
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم ایسی صورت میں ہم اپنی اولاد کو بھی صحیح معنوں میں نیک بنانے کی بچپن سے کوشش کر سکتے ہیں۔اگر یہ نہیں ہے، اگر دنیا سے مرعوب ہیں تو پھر کوئی ایسی ترکیب کارگر نہیں ہوگی، جو میں آپ کو زبانی بتا سکوں۔اب اس پہلو سے آپ اپنا جائزہ لیں ، اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں ، اپنی تمناؤں کے رخ دیکھیں کس طرف ہیں ؟ کن باتوں سے آپ کو خوشیاں ہوتی ہیں؟ کن باتوں سے دل لذتوں سے بھر جاتے ہیں؟ اگر وہ دنیا کی تعلیمات ہیں، جو بچے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم نے اس طرح حاصل کر لیں ، اتنے بڑے کارنامے حاصل کئے ، خاص، جو غیر معمولی ذہین گروپ ہیں، ان میں ہم داخل ہو گئے اور ان کی انگریزی سن کر آپ مرعوب ہو جاتے ہیں، ان کے اچھے نمبر دیکھ کر آپ مرعوب ہو جاتے ہیں اور کبھی آپ کو خیال نہیں آتا کہ بچپن سے ان کے اندر دین کی محبت پیدا نہیں ہو سکی ، قرآن کریم کی تلاوت اچھی نہیں کرتے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیر کی با تیں نہیں کرتے۔اگر ان کے اندر بچپن ہی سے دین کی محبت کا جذبہ پیدا نہیں ہوا اور آپ فکرمند نہیں ہوتے ، غیر معمولی طور پر آپ غمگین نہیں ہو جاتے ، اداس نہیں ہو جاتے ، بے چین نہیں ہوتے ، اس بات کو محسوس کر کے شروع ہی سے دعائیں نہیں کرتے تو پھر آپ کے اندر خلا ہیں اور یہ خلا ایسے ہیں، جن کو بدیوں نے بہر حال بھرنا ہے۔کیونکہ قانون قدرت ہے کہ کوئی جگہ خالی نہیں رہ سکتی۔وہی خلا ہیں، جو بچوں میں بڑے ہو جایا کرتے ہیں۔بعض اوقات انسان کو اپنے خلا دکھائی نہیں دیتے لیکن بچے کے آئینے میں وہ خلاد کھائی دینے لگتے ہیں۔بچہ ماں باپ کی تصویر بنارہا ہوتا ہے اور ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بچے کی شکلیں ہیں، جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ماں باپ کا اندرونہ بچوں میں منعکس ہورہا ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر حالت میں ایسا ہو مگر میں دنیا کے عمومی قوانین بتا رہا ہوں۔عام طور پر قومی تاریخیں اس طرح بنتی اور بگڑا کرتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے ایک اور جگہ واضح طور پر یہ بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو خدا کو یاد کرتے ہیں اور خدا کو یا در رکھتے ہیں، وہ نہیں بگڑا کرتے۔ان کی اولادیں بگڑا کرتی ہیں، جو آہستہ آہستہ خدا کو یاد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔لیکن ان کو پتا نہیں لگتا۔اولاد کو خطرہ ہوتا ہے۔اولاد میں جا کر وہ تصویر نمایاں ہو جاتی ہے۔چنانچہ جو خدا کو یا درکھنے والے ہیں، ان پر تو غیر غالب نہیں آ سکتا۔جو خدا کو یاد رکھنے کا دعویٰ رکھتے ہیں، ان میں بھی بسا اوقات برائیاں نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتیں لیکن ان کی اگلی نسل اس پول کو کھول دیتی ہے اور ان کی کمزوریوں کے راز طشت از بام ہو جاتے۔چنا نچہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔ط يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أو لَبِكَ هُمُ الْفُسِقُوْنَ ) (الحشر : 19,20) 788