تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 786

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 23 اکتوبر 1987ء ) تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد ہفتم ہے۔کیونکہ امر واقع یہ ہے ہم دیکھتے ہیں، بہت سے خاندان اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں، اپنی ان خوبیوں کو بظاہر چھوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جن پر وہ بظاہر قائم دکھائی دیتے تھے اور برائیوں کی طرف سرکتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کی اولادیں ضائع ہوتی نظر آرہی ہوتی ہیں، ان کے مزاج بدل جاتے ہیں، ان کے دین کے رجحانات میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، ان کی آنکھوں میں وہ تعلق قائم نہیں رہتا، جو اچھے تربیت یافتہ بچوں کی آنکھوں میں دکھائی دینا چاہئے۔دین سے اپنائیت دکھائی نہیں دیتی ، ایک غیریت پیدا ہو جاتی ہے۔تو ایک طرف یہ واقعات ہمیں دکھائی دے رہے ہیں، جس سے ہم کیسے آنکھیں بند کر سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حسنات چونکہ برائیوں کو کھا جاتی ہیں؟ اس لئے ہمیں کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں، بے فکر رہیں خود بخود ہماری خوبیاں غالب آجائیں گی۔تو ان دو تضادات میں بیچ میں کون سی ایسی راہ ہے، جسے ہم تلاش کریں۔اور سب سے پہلے تو یہ کوشش کریں کہ ان تضادات کا وجود ممکن کیسے ہے؟ قرآن کریم تو سچائی ہے اور ایک سچائی کا دوسری سچائی سے تضاد ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے کہ قرآن کریم ایک بات بیان فرمارہا ہو اور حقائق اس کی مخالفت کر رہے ہوں۔اس لئے اس تجزیے کے لئے مزید غور کرنا ہو گا۔اس الجھے ہوئے مسئلے کو پہلے حل کرنا ہوگا کہ یہ تضاد ہے کیوں؟ ہمارا مشاہدہ کچھ اور بتارہا ہے۔قرآن کریم کی آیت کچھ اور بیان فرما رہی ہے۔اور دونوں میں گویا مشرق اور مغرب کا بعد ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم ہی سچا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ ہمارا مشاہدہ بھی درست ہے۔مگر ان دونوں کے درمیان جو تضاد ہے، وہ ہماری نظر کی کمی کی وجہ سے ہے۔جب ہم کہتے ہیں کہ عملاً لوگ ضائع ہورہے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے تھے اور اچھے ہونے کے باوجود ضائع ہو گئے ، یہ بات غلط ہے۔وہی ضائع ہوتے ہیں، جو اچھے نہیں ہیں۔جن میں حسنات ہیں، وہ کبھی ضائع نہیں ہوا کرتے۔جن میں خوبیاں ہیں، ان کی خوبیاں لازماً غالب آیا کرتی ہیں۔ہاں ! جنہیں زعم ہو کہ ہم اچھے ہیں، جنہیں دھوکا ہو کہ ہم خوبیوں پر قائم ہیں، وہ سمجھتے ہوں کہ ہم ٹھوس مقامات پر فائز ہیں۔لیکن بیچ میں سے وہ کھوکھلے مقامات ہوں، ریت کے محلوں پر کھڑے ہوں ، ان لوگوں نے تو گرنا ہی گرتا ہے۔اس لئے نسلیں ہی وہ ضائع ہوتی ہیں، جو حسنات سے خالی ہوتی ہیں۔ان لوگوں کی نسلیں ضائع ہوتی ہیں، جن کو حسنات پر زعم ہوتا ہے۔لیکن عملاً وہ حسنات سے خالی ہوتے ہیں۔اور یہ اصول یقینی اور قطعی ہے کہ برائیاں حسنات کو نہیں کھایا کرتیں۔خلاؤں میں داخل ہوا کرتی ہیں۔حسنات کے نام سے آپ کے سینے اور آپ کے اعمال بھر نہیں سکتے۔وہ عمل سے بھرتے ہیں، جو حسن عمل ہو، جو نیک عمل ہو، نیک عادات سے بھرتے ہیں۔786