تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 774
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس اگر آپ خود خدا سے کھوئے جا رہے ہیں، ایک طرز عمل کے نتیجے میں تو پہلے اپنی فکر کریں اگر آپ اپنی فکر کریں گے اور باخدا ہو جائیں گے تو خدا خود ان کی فکر کرے گا۔پھر آپ کے لئے سکے بنانے کی ضرورت نہیں کہ کس طرح ان کو بلائیں۔اپنے دل خدا کے لئے کھولیں ، خدا کی خاطر تقوی اختیار کریں ، خدا کی خاطر انکسار پیدا کریں اپنے اندر۔اور ہر قسم کے کبر سے ایسا خوف کھا ئیں ، جس طرح بعض کوڑھیوں سے خوف کھاتے ہیں۔جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے ڈر کے مارے، اس سے بھی زیادہ کبر سے خوف کھا ئیں۔اس سے زیادہ ہلاک کرنے والی اور کوئی چیز نہیں۔اور یخفی دروازوں سے اندر داخل ہوتا ہے، یہ بغیر آہٹ کے چلتا ہے۔اور جب انسان کے اندر داخل ہو جائے تو اس کے وجود پر قبضہ کر لیتا ہے۔اور بسا اوقات بجز کا پیغام دینے والے، عجز کا اظہار کرنے والے خود تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ باہر سے آنے والے خصوصیت کے ساتھ اپنی نگاہوں کو تبدیل کریں۔خدا کا شکر ادا کریں کہ ان کو ایک غیر ملک میں ایسی دنیا کمانے کی بھی توفیق ملی، جسے وہ دین کی طرف منتقل کر سکتے ہیں۔اور اگر نہیں کر سکتے تو ان کا آنا بیکار۔انہوں نے اپنی روحوں اور اپنی اولادوں کے سودے کئے ہیں، اس ملک سے۔اگر خدا نے آپ کو دیا ہے تو اس خیال سے خدا کے حضور جھکیں اور اس کا شکر ادا کریں کہ خدا تو نے ہمیں وہ کچھ دیا، جس کی تمنا تھی کہ ملتا تو ہم خدا کی راہوں میں خرچ کرتے۔ملتا تو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ کرتے۔پہلے خالی ہاتھ تھے، حسرتیں تھیں۔اب خدا نے ہاتھ بھرے ہیں تو حسرتیں پوری کرنے کا زمانہ آیا، امنگیں پوری کرنے کا زمانہ آ گیا۔اگر یہ احساس پیدا ہوگا تو کتنا شکر آپ کے دلوں میں پیدا ہو گا۔پھر ان بھائیوں کو، ان پسماندہ لوگوں کو اٹھائیں، ان کو سینے سے لگا ئیں کیونکہ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔قرآن سے آپ نے جو کچھ سیکھا، اسے اس حیرت انگیز شان کے ساتھ اپنے وجود میں داخل کر دیا کہ ہمیشہ کے لئے حسین ترین نمونے دنیا کے سامنے ایسے پیدا ہوئے کہ ان کی کوئی مثال آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے غریبوں کے ساتھ ایسی محبت کی ہے کہ اصحاب صفہ، وہ لوگ ہیں، جو غرباء میں سے رسول اللہ کی محبت کے نتیجے میں مسجد میں آ کے بیٹھ گئے۔یہ جوابی پیار کیسے پیدا ہوا ؟ اگر پہلے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیار پیدا نہیں ہوا تھا۔بعض لوگ اپنی بیوقوفی یا نہ مجھی سے یہ گمان کرتے ہیں کہ اصحاب صفہ سب کے سب وہ لوگ تھے، جو بیکار تھے، جن کو دنیا کی کمائی کے ڈھنگ نہیں آتے تھے۔اور اس کے نتیجے میں جس طرح درویش لولے لنگڑے وہاں اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں بعض جگہوں پہ جہاں کھانا مفت ملتا ہے، اس طرح و اس طرح ☑ 774