تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 770

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ہفتم ہیں۔یہ احساس بسا اوقات میں نے دیکھا ہے، شعوری طور پر پیدا نہیں ہوتا۔ورنہ ایک احمدی اگر شعوری طور پر یہ بات سوچے تو وہ احمدی رہتا ہی نہیں۔وہ اسی وقت بددیانت اور بے ایمان ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ قرآن کریم کی بنیادی تعلیم سے روگردانی کرتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا انسان ہزار دھوکوں کا شکار ہے۔ایسی غفلتوں کا شکار ہے کہ اس کی آنکھ نہیں کھلتی۔بعض دفعہ موت کا قرب بعض دفعہ آنکھ کھول کر اسے ایسا پیغام دیتا ہے کہ وہ حیران رہ جاتا ہے کہ ساری عمر میں نے گزاری اور مجھے محسوس نہیں ہوا کہ میں کیسی عمر گزار کے آیا ہوں۔اس لئے ضروری ہے کہ انسان کو اس کے حالات کا تجزیہ کر کے اسے تفصیل سے سمجھایا جائے کہ تم کیا کر رہے ہو؟ اور کیوں کر رہے ہو؟ اور کیوں تمہیں یہ نہیں کرنا چاہئیے ؟ اس لئے میں ہر پاکستانی یا غیر امریکن نیم رنگ رکھنے والے کو مخاطب نہیں ہوں یعنی مخاطب تو سب کو ہوں لیکن ہر ایک کو ملزم قرار نہیں دے رہا۔مگر کم فہمی کے نتیجے میں ایسا ہوتا ضرور ہے اور ایک بڑی تعداد ایسے امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ بہت پرانی بات ہے۔اس زمانے میں ابھی بہت کم پاکستانی یہاں آنے لگے تھے۔ایک پاکستانی نے مجھ سے بیان کیا کہ امریکہ میں جو سب سے بڑی ایک Problem یعنی ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک نعوذ باللہ من ذالک ہمارے مبلغین نے یہ غلطی کی کہ پہلے سیاہ فام لوگوں میں تبلیغ شروع کر دی اور اس کے نتیجے میں وہ جوق در جوق شامل ہونے شروع ہوئے۔چنانچہ خود اپنے ہاتھوں سے سفید فام قوموں کے لئے رستے بند کر دئیے۔اس کے اندروہ احساس کمتری پایا جاتا تھا، جو نوح کی بظاہر غالب قوم کے اندر پایا جاتا تھا۔اس کے اندروہ جاہلانہ بات تھی کہ جو نسبتا کم عزت رکھنے والی قومیں ہیں، وہ خدا کی ہو بھی جائیں ، تب بھی وہ ذلیل ہی رہیں گی۔گویا کہ اور سفید فام آئیں گے تو دین کو عزت ملے گی۔سفید فام نہیں آئیں گے تو دین ذلیل رہے گا۔وہ بات کرنے والا ایک ذلیل سوچ رکھنے ولا تھا۔میرا دل متلانے لگا کہ کس قسم کی بات کر رہا ہے۔قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ میرے باشعور بندے ہزار ہا سال پہلے بھی ایسے روشن دماغ رکھتے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ بچی فضیلتیں کن باتوں میں ہیں۔وہ جانتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ غریبوں کو توفیق دے اور کم نظروں کو، چھوٹا دکھائی دینے والوں کو توفیق دے تو وہ خدا سے ایسی عزت پاتے ہیں کہ تمام دنیا پر وہ فضیلت پا جاتے ہیں۔ان کے آنے سے دین کو عزت ملتی ہے، ان کے جانے سے دین کی ذلت ہے۔اور جو دین کو چھوٹا دیکھتے ہیں، ان کے نہ آنے میں دین کی عزت ہے اور پھر یہ کہ ان پر دروازے کیسے بند کئے جاسکتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کسی قوم کو ایک فضلیت عطا کرے اور وہ نیکی کی طرف آگے بڑھے اور قربانیوں کی طرف 770