تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 769
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 16 اکتوبر 1987ء احمدیت کے نزدیک خدا کے سب بندے برابر اور یکساں ہیں۔لیکن اگر کوئی احمدیت تفریق کرتی ہے تو ظالم اور مظلوم کے درمیان کرتی ہے، ایک رنگ اور دوسرے رنگ کے درمیان نہیں کرتی۔لیکن اس وقت میں اس کی تفصیل میں بھی نہیں جانا چاہتا۔میں آپ سے ان دونوں سے جو بحیثیت احمدی یہاں موجود ہیں، خواہ وہ کسی رنگ سے تعلق رکھتے ہوں، سیاہ رنگ سے تعلق رکھتے ہوں یا نسبتا کم سیاہ رنگ سے تعلق رکھتے ہوں یا بالکل سفید رنگ سے تعلق رکھتے ہوں۔ان سے میں ان آیات میں بیان کردہ مضمون کی روشنی میں کچھ اہم باتیں کرنی چاہتا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ پاکستانی خصوصیت کے ساتھ جو باہر سے تشریف لائے اور یہاں آباد ہوئے ، وہ بھی ایک قسم کے Complex کا شکار ہیں۔یعنی احساس کمتری صرف رنگ کے سیاہ ہونے سے نہیں ہوا کرتا، بعض دفعہ رنگ کے کم سیاہ ہونے سے بھی ایک احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔احساس کمتری تو دل کے چھوٹا ہونے کا نام ہے، نظر کے چھوٹا ہونے کا نام ہے۔خواہ یہ دل کا چھوٹا پن اور نظر کا چھوٹا پن کالے رنگوں میں پایا جائے یا سفید رنگوں میں پایا جائے یا درمیان کے رنگوں میں پایا جائے۔اس کا مظہر ایک ہی ہو گا یعنی احساس کمتری۔اور دنیا کے معاشرے کی بہت سی بیماریاں احساس کمتری کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔لیکن سب سے زیادہ مذہب کی دنیا میں اگر کوئی قوم یا بعض قو میں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں تو اس کے نہایت ہی خوفناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ جیسا کہ آپ نے ان آیات میں سنا ہے، احساس کمتری اور سچائی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ایک دوسرے کے ایسے شدید دشمن ہیں کہ بیک وقت دونوں پنپ ہی نہیں سکتے۔احساس کمتری کے نتیجے میں صداقت کھائی جاتی ہے۔جس طرح گھن کھا جاتا ہے بعض چیزوں کو اسی طرح احساس کمتری ایمان کو کھا جاتا ہے ، صداقت کو کھا جاتا ہے، شرافت کو کھا جاتا ہے۔اور بعض دفعہ یہ احساس کمتری مخفی ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی باہر سے پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی، بنگال سے آئے ہوئے ہوں یا عرب سے آئے ہوئے ہوں ، وہ آ کر یہ محسوس کریں کہ ان کے حالات نسبتا ان لوگوں سے اچھے ہیں، جنہیں سیاہ فام کہا جاتا ہے اور ان کے رنگ بھی نسبتاً ان سے سفید فام قوموں کے قریب تر ہیں اور لاشعوری طور پر اس کے نتیجے میں وہ یہ سمجھنے لگیں کہ ہم چونکہ اتنے کالے نہیں اور چونکہ اتنے غریب نہیں، اس لئے ہم سفید فام لوگوں میں ملنے کے زیادہ اہل ہیں اور وہ ہمیں زیادہ قرب عطا کریں گے، اس لئے اصل سوسائٹی ہماری ان کی ہے۔ان سے تعلق بڑھائیں تو ہمیں ان دوسروں پر ایک فضیلت حاصل ہے۔حالانکہ وہ ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے 769