تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 758
خطبه جمعه فرمودہ 109 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم پھیلے تو اس کے ساتھ ہر قسم کے امن کا تحفظ دنیا میں پھیلے گا۔اور اس کے ساتھ ہر قسم کے تضادات دور ہونے ہر کا ایک سلسلہ جاری ہو جائے گا۔یہ دعویٰ بہت بڑا دعوئی ہے۔لیکن امر واقعہ ہے کہ ہر احمدی اپنی شخصیت کے اندر اس دعوئی کو جانچ سکتا ہے۔احمدیت نے اسے کیا شخصیت عطا فرمائی ہے۔ایک انتہائی متوازن شخصیت، جو خالصۂ انصاف پر ہی مبنی نہیں بلکہ اپنا حق چھوڑ کر دوسرے پر احسان کرنے کے رجحان پر مبنی ہے۔ایک ایسی شخصیت، جو خالصہ اللہ سے محبت رکھنے والی اور اللہ کی محبت چاہنے والی ہے۔ایک ایسی شخصیت، جو واقعہ بنی نوع انسان کی ہمدردی رکھتی ہے۔مشرق سے بھی محبت رکھتی ہے، مغرب سے بھی محبت رکھتی ہے۔نہ امریکہ میں رہتے ہوئے امریکن احمدی کو روس سے دشمنی ہے بلکہ روسی انسان اسی طرح اس کو پیارا ہے، جس طرح مغرب میں بسنے والا کوئی انسان۔نہ مشرقی اشترا کی دنیا میں رہنے والے آدمی کو امریکہ سے کوئی دشمنی ہے بلکہ امریکہ کا انسان اسے اسی طرح پیارا ہے، جس طرح مشرق میں بسنے والا انسان۔ایک عالمی شخصیت وجود میں آ رہی ہے، ایک بین الاقوامی روح ترقی کر رہی ہے، جس کا تمام تر مدار خالص تقویٰ پر ہے، خالص انصاف پر ہے، خالص انسانی ہمدردی پر ہے۔اور یہ روح اللہ کے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔جب تک خدا کا تعلق غالب نہ رہے، ہماری زندگی کے ہر فیصلے میں فیصلہ کن نہ بن جائے ، اس وقت تک یہ مزاج پیدا نہیں ہو سکتا۔اور اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کو یہ استثناء حاصل ہے۔آج دنیا میں کہ جماعت احمدیہ کے سوا اور کسی کو خدا کا وہ تعلق نصیب نہیں ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسی انسانیت وجود میں آتی ہے، جو سب انسانوں کے درمیان سانبھی ہو جاتی ہے، جو سب سے پیار کرنے والی ہوتی ہے، سب کا بھلا چاہتی ہے اور اس کے نتیجے میں قربانیاں دیتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ مضمون ہے، جس کا آغاز ہمیشہ نبوت کے ساتھ ہوا ہے۔ساری تاریخ مذاہب کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے ، آپ کو اس مضمون کا آغاز نبوت کے بغیر کہیں دکھائی نہیں دے گا۔چنانچہ عجیب بات ہے کہ وہ لوگ، جو دنیا کے سب سے بچے ہمدرد ہوتے ہیں، سب سے زیادہ پیار کرنے والے ہوتے ہیں، وہ جن کی ذات کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہو جاتی ہے، سب سے زیادہ دنیا ان سے دشمنی کرتی ہے۔بظاہر اس بات میں بھی ایک تضاد دکھائی دے رہا ہے۔وہ وجود، جو رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم بن کے آیا، سب سے زیادہ دنیا نے اس سے دشمنی کی ہے۔یہ دعوئی ایک وسیع آفاقی نظر سے جانچنے کے نتیجے میں کھل کر سامنے آتا ہے۔عموماً مسلمان عرب میں ہونے والی ان دشمنیوں کے ذکر تک اپنے آپ کو محدود کر دیتے ہیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے زمانے میں خصوصاً مکی دور میں اور بعد میں بار ہا مدنی دور 758