تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 759
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد مفتم خطبہ جمعہ فرموده 09اکتوبر 1987ء میں بھی مسلمانوں کے مقابل پر ظہور پذیر ہوئیں۔اس دشمنی کا اثر شدید تھا اور بڑے ہی دردناک مناظر ہمارے سامنے آتے ہیں۔لیکن دائرہ محدود تھا اور کچھ عرصے کے لئے تھی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ آفاقی نظر سے مطالعہ کر کے دیکھیں تو دنیا کے کسی نبی کو دنیا کے باقی مذاہب نے اتنی گالیاں نہیں دیں، جتنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں۔ساری عیسائی تاریخ ساری یہودی تاریخ ، ساری ہندو تاریخ اور دیگر مذاہب کی تاریخ اس بات سے بھری ہوئی ہے۔آخر ہندوؤں کے یہودیوں سے بھی تو اختلاف ہیں، عیسائیوں سے بھی تو اختلاف ہیں، دوسرے دیگر مذاہب سے بھی اختلاف ہیں، مگر مجھے کوئی ایک ہند و کتاب اٹھا کر دکھائیے ، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہوں۔جو بد بخت اٹھتا ہے، ان میں سے لکھنے والا، یعنی مذہب کے معاملے میں لکھنے والا ، وہ دنیا کی سب سے مقدس ذات ، سب سے زیادہ ہمدرد ذات کو اپنے ظلم اور اپنے دل کے تعفن کا نشانہ بناتا ہے۔ایسی ایسی ظالمانہ کتابیں ہیں کہ خون کھولنے لگتا ہے۔انسان چند صفحے مطالعہ نہیں کر سکتا۔پھر آپ عیسائی دنیا کے لٹریچر کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے، وہ یہود جن سے سب سے زیادہ ضرران کو پہنچا آغاز عیسائیت پہ ، وہ یہود جو مسیح کی صلیب کا موجب بنے ، ان کی سب تکلیفوں کو کلیہ بھلایا جا چکا ہے۔گزشتہ سینکڑوں سال سے جو عیسائی مصنف اٹھتا ہے، وہ اسلام کو اپنے مظالم کا نشانہ بناتا ہے۔اور حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو خصوصیت کے ساتھ اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔یہودی کتب اٹھا کرد لیجئے ، عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کا ایک فوری مقابلہ تھا، اس وقت جو بعد میں پھیلتا چلا گیا اور وہ مقابلہ ، جس کا آغاز حضرت عیسی علیہ الصلواۃ والسلام کے دعوی کے ساتھ ہوا تھا ، وہ آج تک اسی طرح جاری رہنا چاہئے۔مگر عیسائی اور یہودی Polarization یہ مد مقامل جو مورچہ بندی ہے، یہ آپ کو وہاں دکھائی نہیں دیتی۔لیکن یہودیوں کا رخ بھی اسلام کی طرف اور خصوصیت سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، قرآن کریم کی تعلیم سے واقف سبھی لوگ جانتے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اس سے زیادہ بنی نوع انسان کا ہمدرد وجود نہ پیدا ہوا، نہ ہو سکتا ہے۔عقلاً ممکن نہیں کہ کوئی انسان ان حدووں سے تجاوز کر جائے ، جو نیکی اور رحمت کی حدیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی تھیں۔پھر یہ تضاد کیوں ہے؟ کیوں ایک ایسے انسان کی دشمنی کی جاتی ہے، اس کے مختلف محرکات بھی ہیں اور مختلف فلسفیانہ پس منظر بھی ہیں۔اور یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن اس کے صرف ایک پہلو کی 759