تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 705

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ عید الاضحیہ فرمودہ 105 اگست 1987ء تو ایک یہ بھی رنگ ہوتا ہے وقف زندگی کا ، جو پھر نا مقبول ہو جاتا ہے اور مردود ہو جاتا ہے۔اس لئے ان احتمالات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہو سکتا ہے کسی کا بچہ بڑا ہو کر عظیم الشان علم حاصل کرے، دنیا کے لحاظ سے۔نوک پلک سے ہر طرح سے درست ہو اور سلسلہ اسے ایک معمولی سا کام دے رہا ہو۔اس آیت پر غور ضروری ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام یہ عرض کرتے ہیں ، وارنا مناسکنا، جب ہم پیش کر چکے تو ہمیں یہ بھی حق نہیں ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم نے کیا قربانیاں دینی ہیں؟ جس کے سپرد کر دیا ہے اپنے آپ کو، اس کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کیا قربانیاں لینی ہیں؟ کیسی کامل دعا ہے! حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ السلام کی سپردگی کا کمال اور آپ کی ذہانت کا بھی کمال ہے۔کتنا باریک نکتہ ہے، جسے خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں کہ خدا میں تو پیش کر چکا ہوں۔اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے یہ قربانی دینی ہے۔اب تیرا کام ہے، تو جانتا ہے، جہاں لگائے گا، وہاں لگ جائیں گے۔جس قسم کا کام تو ہم سے لے گا، اسی قسم کا کام ہم کریں گے۔اور یہی روح آپ کی نسل میں آگے جاری رہی۔اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں بدرجہ کمال ظاہر ہوئی ہے۔حیرت انگیز کمال کے ساتھ یہ جذ بہ نشو و نما پاتا رہا ہے۔اور اس کے لئے ایک لمبی نسل تھی ایسی ، جن کے اندر خون میں خدا تعالیٰ نے ایسا نظام جاری کیا تھا کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے جذبات یا صلاحیتیں مزید پرورش پاتی ہوئی ، بڑھتی ہوئی، نشو ونما پاتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ایک مخفی جو ہر کی طرح اور وہ تمام نسلوں میں جو مخفی جو ہر آگے ترقی کر رہے تھے، وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تابع حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنین میں مجتمع ہو گئے اور ایک عظیم الشان وجود اس سے پیدا ہوا ہے۔پس یا درکھیں کہ اگر آپ کی نیتیں خالص ہیں اور انکسار کامل ہے اور جب وقف کرتے ہیں تو پھر اپنا کچھ نہیں رہنے دیتے۔سب کچھ خدا کا بنا دیتے ہیں۔تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی عطا کرنے والا ہے کہ اس طرح وہ قبول حسن فرماتا ہے کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کتنا عظیم الشان وجود پیدا ہو گا ؟ جیسا کہ میں پہلے بھی بارہ بتا چکا ہوں، اس دعا کا ایک نہایت ہی حسین پہلو یہ ہے اس کی قبولیت کا کہ حضرت ابراہیم کی دعا میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی ترمیم فرما دی، اس کی قبولیت کے وقت، جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے جس رنگ میں دعامانگی تھی، جس وجود کا تصور کیا تھا، اس سے زیادہ بڑا وجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے، آپ کی نسل میں۔چنانچہ حضرت ابراہیم نے دعا میں ترتیب یہ رکھی تھی کہ اے خدا ایسا رسول دے، جوان کو تیری آیات سنائے ، علم کتاب دے، کتاب کی حکمتیں بیان کرے اور 705