تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 703
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطبہ عید الاضحیہ فرموده 05 اگست 1987ء اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی ؟ یہ تواللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے کہ جس شخص کی قربانی قبول نہ کی جائے، اس کو الہا ما فوراً کہہ دے کہ تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی اور جس کی قبول کی ہے، اس کو کہہ دے کہ تمہاری ہوگئی ؟ اور یہ دونوں بلند آواز میں اس طرح باتیں بیان کی جائیں کہ دونوں ایک دوسرے کی وہ باتیں سن بھی رہے ہوں۔یہ سنت اللہ کے خلاف ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے، احادیث کے مطالعہ سے کہیں خدا تعالی کا اس قسم کا کوئی سلوک نظر نہیں آتا۔تو سوال یہ ہے کہ اس کو کیسے پتہ چلا کہ اس کی ہو گئی ہے، میری نہیں ہوئی۔اور قربانی سے مراد جب بھی قربانی کا لفظ آتا ہے تو اس کا ایک گہرا تعلق زندگی سے ہے۔مراد جانور کی قربانی ہے یا کوئی اور قربانی ہے؟ گزشتہ دو آیات، جو پہلے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں، ان کی روشنی میں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہاں بھی زندگی ہی کی قربانی کا ذکر ہے۔دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کیا کہ ہم سے خدمت دین کی جائے۔حضرت آدم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ایک کو خدمت دین کے لئے قبول کر لیا اور ایک کو بتایا کہ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے۔اس کے نتیجہ میں اس کو معلوم ہو گیا کہ میری قربانی قبول نہیں ہوئی ، جبکہ بھائی کی قربانی قبول ہو گئی ہے۔تو قربانی کے قبول ہونے سے مرادان تینوں جگہ وقف زندگی لیا جائے تو مضمون بالکل واضح ہو جاتا ہے۔اور ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو جاتا ہے۔اور قربانی سے مراد ایسی قربانی نہیں ہے، جس کی گردن پر چھری پھیر دی جائے اور وہ اچانک تڑپ تڑپ کر ختم ہو جائے۔کیونکہ انبتھا نباتا حسنا بتاتا ہے کہ یہ ایسی قربانیوں کی بات ہورہی ہے، جنہیں قبول کرنے کے بعد پھر اللہ تعالی ان کی پرورش فرماتا ہے، ان کی تربیت فرماتا ہے اور ان سے خدمتیں لیتا ہے۔ارنا منا سکنا بھی اس مضمون کو کھول رہا ہے کہ یہ قربانیاں وہ ہیں، جنہوں نے پھر ساری عمر آگے قربانیاں پیش کرنی ہیں۔کوئی ایک لمحے کی قربانی کا ذکر نہیں ہے۔بلکہ جسے قربانی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، وہ آگے پھر قربانیاں پیش کرے گا۔اور ساری زندگی وہ قربان ہوتا چلا جائے گا۔پس اس پہلو سے ہم واقف زندگی کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔جب میں نے وقف نوکی تحریک کی ہے یعنی آئندہ صدی کے لئے بچے وقف کرنے لئے تو ان آیات کو میں اس لئے آج آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، اس عید کی مناسبت سے کہ اس ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھیں۔اگر آپ نے اپنے بچے محض اللہ کامل خلوص کے ساتھ پیش کرنے ہیں تو پھر یہ نہ سمجھیں کہ ادھر پیش کئے ، ادھر مقبول ہو گئے۔مقبول ہونے کے لئے کچھ اور شرطیں ہیں۔مقبول ہونے کے لئے ان کے اندر تقویٰ ہونا ضروری ہے، مقبول 703