تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 676
خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم دوسرے یہ کہ اس لیکچر کے دوران میں نے یہ اندازہ لگایا اور مجھے شوق ہے قرآن کریم کے مطالعہ کا اور میں تفاسیر کو بھی دیکھتا رہتا ہوں۔میں نے یہ اندازہ لگایا بلکہ یہ فیصلہ کیا کہ آج روئے زمین پر تم سے زیادہ قرآن کریم کو جاننے والا اور کوئی شخص نہیں۔( نعرہ ہائے تکبیر ) چنانچہ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ سے ایک دلی محبت پیدا ہو چکی ہوئی ہے اور میں اصرار کرتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں، چاہے ایک منٹ کے لئے آئیں۔اور میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ ہاتھنیا کو میں احمدیت کا پیغام پہنچاؤں گا۔اور میرے بھائی وہاں بڑے بااثر ہیں۔میں نے بے تاب ہو کر فون پر ان کو بتایا ہے اور انہوں نے فون پر ہی مجھے سے درخواست کی ہے کہ جلد سے جلد ان کو لے کر یہاں آؤ تو وہاں جانے کا پروگرام تو بنے یا نہ بنے، اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دوروں کے دوران اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پھل لگتے رہتے ہیں اور دل خدا کے حضور شکر سے لبریز ہو کر بہنے لگتا ہے۔یہ محض اللہ کا احسان ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے لئے نئے نئے راستے کھول رہا ہے۔اب ہاتھنیا کے لئے ایک تمناتھی اور کوئی آدمی مل نہیں رہا تھا، ترجمے والا بھی اور خدا نے خود ہی اپنے فضل سے رستہ کھول دیا۔نیوز کانفرنس خدا کے فضل سے اس طرح سے کامیاب رہی کہ اگر چہ نمائندے صرف تین تھے لیکن ایک ان میں سے جو رائٹر کا نمائندہ تھا، اس نے بہت اچھا کوریج COVEREGE ساری دنیا میں بھجوایا۔اور جماعت احمدیہ کے متعلق اس کا بھیجا ہوا پیغام یہاں لنڈن کے جنگ میں بھی چھپا اور دنیا کے دوسرے اخباروں میں بھی چھپا۔جو استقبالیہ ہوئی ، اس میں بڑے بڑے ممالک کے نمائندے، ڈپلومیٹ ، ڈاکٹر، ممتاز صحافی ، وکلاء، انجینئر، غرضیکہ ہر قسم کے دانشور موجود تھے۔اور رات سات بجے شروع ہوئی، رات گیارہ بجے تک سوال و جواب ہوتے رہے۔باوجود اس کے کہ ان لوگوں کی عادت نہیں ہے اتنا لمبا عرصہ بیٹھنے کی لیکن پھر بھی وہ اٹھنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔اور مجھے احساس ہوا کہ بعض ان میں سے تھک گئے ہوں گے۔اس لئے میں نے پریذیڈنٹ صاحب سے کہا: اگر چہ میں تو نہیں تھکتا خدا کے فضل سے لیکن کہیں یہ نہ ہو کوئی شخص مروت کے مارے بیٹھا ہو، اس لئے آپ اس کو ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔دوسرے دن پھر ہم نے کچھ دوستوں کو بے تکلف چائے پر اور سوال و جواب کے لئے بلایا۔اس میں اس لیکچر میں شامل ہونے والے کئی خاندان بغیر بلاوے کے تشریف لے آئے۔یہ ہم نے اعلان اسی لیکچر میں کر دیا تھا کہ دوسرے دن ایک 676