تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 677

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ہفتم خلاصہ خطاب فرمودہ یکم اگست 1987ء بے تکلف چائے پارٹی ہونے والی ہے، اس لئے جو دعوت لینا چا ہے، وہ ہم سے رابطہ قائم کرے تو انہوں نے رابطہ تو کوئی نہیں کیا۔لیکن یہ سمجھ کر کہ یہ عام دعوت ہے، وہ خود ہی تشریف لے آئے۔اور بہت ہی اللہ کے فضل کے ساتھ محبت کا اظہار کیا، احمدیت میں دلچسپی لی، بڑے اچھے سوال کئے اور جس قسم کے تاثرات ان پر پیدا ہوئے ، اس کی ایک مثال میں آپ کو بتا تا ہوں کہ عشاء کی نماز کے وقت ایک خاندان جس کے میاں بھی بڑے اچھے وکیل ہیں اور بیوی بھی بڑی قابل وکیل ہے۔وہ دونوں اپنے بچوں کو لے کر ٹھہرے رہے۔عشاء کی نماز ان بچوں کو دکھائی اور نماز کے بعد میں نے بچوں کو تھوڑا سا پیار کیا، ان سے پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے کہا: ان کو احمدیت کے متعلق تو کسی قسم کی واقفیت نہیں ہوگی تو ان کے والدین نے کہا کہ اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں تھا، ان کو احمدیت سے متعارف کروانے کا کہ یہ آپ کو نماز کی حالت میں دیکھیں۔اور یہ میں نے کر لیا ہے۔اب یہ بات جس کو دلچپسی پیدا نہ ہو، اپنے بچوں کے متعلق وہ کر ہی نہیں سکتا۔وہ چاہتا تھا کہ بچے احمدیت میں دلچسپی لیں۔ان کی بیگم نے جانے سے پہلے جب کہ میں فارغ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اندر جاچکا تھا، انہوں نے کہا کہ میں آپ سے ملے اور آپ سے اپنے بچوں کو ملائے بغیر واپس نہیں جانا چاہتی۔اور میں یہ وعدہ لینا چاہتی ہوں کہ آپ جب پھر تشریف لائیں تو ہمارے گھر ضرور تشریف لائیں اور اس سے کم میں مانوں گی بھی نہیں۔چنانچہ میں نے ان سے وعدہ کیا۔یہ خدا۔کے فرشتے ہیں، جو تحر یک کرتے چلے جارہے ہیں۔ہر طرف سے نئے نئے رستے کھل رہے ہیں۔اب سوئٹزر لینڈ تو بڑی خشک جگہ مجھی جاتی ہے۔ہمارے چانن صاحب آئے ہوئے ہیں، ان کو پتہ ہے کہ کتنی خشک جگہ ہے۔وہ مجھے اس سے پہلے بھی یہ لکھ چکے تھے کہ کیوں پیسے ضائع کر رہے ہو، سوئٹزرلینڈ میں؟ یہاں کوئی شخص اثر قبول نہیں کر سکتا۔مگر خدا نے ان کے دیکھتے ہی، وہ موجود رہے سارا عرصہ، اپنے فضل سے ایسے شاندار نتائج پیدا کئے اور وہیں سوئٹزر لینڈ کے ایک نہایت مخلص میاں بیوی، جو مسلمان ہو چکے تھے ، وہ احمدی ہو گئے۔وہ یہاں بھی تشریف لائے ہوئے ہیں۔میرے ساتھ وہاں سفر میں بھی شامل ہوئے۔اور عظیم الشان پاکیزہ روحانی تبدیلی ان کے اندر پیدا ہورہی ہے۔اس لئے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔یہ جوفتوی دینے میں جلدی کرتے ہیں کہ زمین سخت ہے ، لوگ گندے ہیں، قبول نہیں کریں گے، یہ جائز نہیں ہے۔قرآن فرماتا ہے کہ ایسے پتھر ہیں، جن سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔اس سے یہی مراد ہے کہ تمہیں وہ پتھر نظر آتے ہیں لیکن تمہیں کیا پتہ کہ خدا کی تقدیر ان کے دلوں سے رحمت کے چشمے بہارے۔اس لئے داعی الی اللہ کو اپنے عزم اور حو صلے کو ہمیشہ بلند رکھنا چاہئے۔( مطبوع ضمیمہ ماہنامہ تحریک جدید ستمبر 1987 ء) 677