تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 675

خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پہنچائی گئی اور وہاں بھی سننے والے آ کے بیٹھے اور خدا کے فضل سے اس کا بہت اچھا اثر اس رنگ میں ظاہر ہوا کہ ایک تو غیر احمدی مسلمانوں کی مسجد کے امام جو مصری ہیں، وہ مخالفت کی نیت سے وہاں آئے اور انہوں نے جو سوالات کئے ، ان کے جو جوابات دینے کی مجھے توفیق ملی، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں دلچسپی پیدا کر دی۔چنانچہ یوگوسلاویہ میں ایک علاقہ ہے، ہاتھنیا، جو مسلمانوں کی ایک ریاست تھی۔جو دوسری جنگ میں اتنا ظلموں کا نشانہ بنی کہ اس کی تین چوتھائی آبادی اس جنگ کے دوران ہلاک ہوگئی تھی۔وہاں اس کے بعد مزید ظلم یہ ہوا کہ اشترا کی حکومت آگئی اور اس نے اسلام کے خلاف اتنا سخت رویہ اختیار کر لیا کہ اسلام کا نام لینا بھی ایسا جرم بن گیا ، جس کی سزا موت تھی۔ہماری بڑی دیر سے خواہش تھی کہ اس زبان میں بھی قرآن کریم کا ترجمہ کریں، احمدیت کا پیغام پہنچائیں لیکن پیش نہیں جاتی تھی۔حسن اتفاق سے اس لیکچر میں ایک ہا تھنیا کے ٹیکسی ڈرائیور آئے ہوئے تھے اور نام کے وہ ٹیکسی ڈرائیور تھے۔مگر تھے وہ بڑے قابل آدمی اور ٹیکسی کا پیشہ ہمارے ملک میں تو کم درجہ کا سمجھا جاتا تھا، وہاں بڑا معزز ہے۔اس پہلو سے کہ وہاں ٹیکسی ڈرائیور بڑی کمائی کرتے ہیں اور ان کا مکان بھی بڑے اچھے فیشن ایبل علاقے میں تھا۔وہ وہاں آئے ہوئے تھے۔وہ دوسرے دن صبح مشن میں آگئے اور کہا کہ میں نے آپ کے امام سے ملنا ہے، مجھے تھوڑ اسا وقت دیں۔مربی انچارج مجھ سے کہا کہ چند منٹ کے لئے آئے گا۔کل آپ نے سفر پر جانا ہے، اس سے پہلے وقت دے دیں۔میں باہر نکالا، ان سے ملا، بات کی تو مجھے ان کے آثار کچھ اور نظر آئے۔میں نے مربی انچارج سے کہا کہ چند منٹ کی بات نہیں، یہ گھنٹوں کی بات لگتی ہے، اس لئے کچھ پہلے بلا لیں۔چنانچہ پہلے بلانے کے باوجود ڈیڑھ گھنٹے تک انہوں نے اٹھنے کا نام نہ لیا۔قافلہ تیار کھڑا تھا، میں نے کہا کہ کوئی پرواہ نہیں، ان کو حق کا پیغام پہنچانے کا موقع مل جائے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے دلچپسی کیوں کی؟ آپ کیوں آئے ، اس لیکچر کے بعد؟ انہوں نے دوباتیں بیان کیں۔انہوں نے کہا: ترجمہ تو مسعود جہلمی صاحب کرتے تھے لیکن جب انہوں نے بات کی تو میں حیران ہو کر مسعود جہلمی صاحب کو دیکھ رہا تھا کہ رونے لگ گئے، آنکھوں سے آنسوؤں کے فوارے پھوٹ پڑے اور جذبات کی شدت سے ترجمہ کرنے کی طاقت نہیں رہی۔کچھ دیر تک اتنا مغلوب ہو گئے۔پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دو باتوں کے نتیجے میں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں آپ سے ضرور ملوں گا اور اس تعلق کو قائم رکھوں گا۔اول یہ کہ جب آپ نے اس مولوی کے اعتراض کے جواب دیئے تو آپ کے طرز میں ایک شرافت تھی ، ایک نجابت تھی اور ایک وقار تھا اور اسی پر میں مطمئن ہو گیا تھا کہ آپ بچے ہیں اور یہ جھوٹا ہے۔تھا کہ 675