تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 670

خلاصہ خطاب فرموده یکم اگست 1987ء اس تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم جماعت احمدیہ کے متعلق تفصیلی مضمون لکھا اور حکومت پر تنقید کی کہ ایسا جھوٹ بول کر نفرتیں پھیلانے والے کو تم اجازت کیوں دیتے ہو کہ تمہارے ملک میں آئیں اور فساد کا بیج بوئیں۔اس کی اشاعت تین لاکھ ، بائیس ہزار ہے۔اور یہ کینیڈا کا وہ واحد اخبار ہے، جو نیشنل ہے۔اور کینیڈا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے۔مضمون کی سارے کینیڈا میں اتنی شہرت ہوئی کہ فیڈرل منسٹر آف امیگریشن نے ایک ممبر آف پارلیمنٹ سے کہا کہ احمدیوں سے پوچھ کر بتاؤ کہ وہ کیا مطالبہ کرتے ہیں ؟ اگر وہ کہتے ہیں تو ہم مولویوں کا ویز امنسوخ کر دیتے ہیں۔مربی انچارج نے فون کر کے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے کہا کہ ہر گز نہیں ، جماعت احمدیہ کی یہ پالیسی نہیں ہے۔ہم ہرگز کسی کی راہ میں روڑے اٹکانا نہیں چاہتے۔ان کو جو عقل ہے، وہ اس کے مطابق اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔جوہم کو خدا توفیق بخش رہا ہے، ہم خدمت کر رہے ہیں۔اس لئے حکومت کینیڈا سے کہہ دو کہ ہر گز ہم آپ سے یہ مطالبہ نہیں کریں گے۔لیکن اس اخبار کے نتیجے میں عوامی رائے عامہ کا ایساد باؤ ان پر پڑا کہ حکومت مجبور ہوگئی کہ ان علماء کے ویزے کینسل کر کے ان کو واپس پاکستان بھجوادئے“۔(نعرہ ہائے تکبیر ) حضور نے فرمایا کہ یہ تو بڑی لمبی دلچسپ داستان ہے۔میں ایک اور واقعہ آپ کو سنا دیتا ہوں۔اخبارات میں تو اس کثرت سے اب جماعت کی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ اس ایک سال میں جتنا مواد جماعت کا شائع ہوا ہے، پاکستان کی اس مخالفت سے پہلے کے دور میں ہیں سال میں بھی اتنا شائع نہیں ہوا۔اور یہ مبالغہ نہیں۔احتیاطاً میں نہیں 20 کہہ رہا ہوں، ہوسکتا ہے کہ چھپیں یا زیادہ ہی ہوں۔اور اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔آپ میں سے جو تھک چکے ہیں، ان کو میں سنادیتا ہوں کہ میرا اندازہ کس نوع کا ہے“۔اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم تھکے نہیں ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا ”خیر اور تازہ دم ہو جائیں گے لطیفہ سن لیں گے تو ! حضور نے لطیفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔ایک مولوی صاحب بیچارے ان پڑھ تھے۔ان سے گاؤں کے بچے آکر تاریخ پوچھا کرتے تھے۔چنانچہ انہوں نے ترکیب یہ کی تھی کہ روڑے پاس رکھ لئے تھے اور روزانہ چاند کی تاریخ کے حساب سے ایک روڈ امٹی کی ہنڈیا میں ڈال دیتے تھے۔چنانچہ جب کوئی بچہ آتا تھا اور پوچھتا تھا کہ کیا تاریخ ہے؟ تو مولوی صاحب اٹھ کر اندر کمرے میں جاتے تھے اور روڑے نکال کر گنتے تھے اور آکر بتا دیتے تھے کہ آج 670